1 جون، 2018

گوجر آباد کے مکین زندگی کے تمام بنیادی سہولیات سے محروم۔ اس گاؤں میں نہ تو راستہ ہے نہ پانی، نہ سکول اور نہ ہسپتال۔

 


چترال(گل حماد فاروقی) چترال شہر سے چند فاصلے پر واقع گجر آباد جو دنین کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے یہ گاؤں 350 نفوس پر مشتمل ہے مگر یہ ساڑھ تین سو آبادی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ اس گاؤں کے بارے میں ابھی تک کسی میڈیا کی رسائی بھی نہیں تھی نہ ان کو اس بابت معلوم تھا۔ 



گجر آباد نہایت اونچائی پر واقع ہے جہاں کوئی راستہ نہیں ہے بچے بوڑھے، مرد خواتین نہایت تنگ راستے سے اوپر چڑھتے ہیں اور اپنا سامان خورد و نوش بھی کمر پر اٹھا کر نہایت تکلیف دہ حالات سے گزر کر اوپر لے جاتے ہیں مگر جب بارش ہوجائے یا موسم سرما میں برف باری ہو تو یہاں کے مکین نہایت تکلیف حالات سے گزرتے ہیں جب اوپر چڑھتے ہیں تو کسی لاٹھی کا سہارا لیتے ہیں مگر جب نیچے اترتے ہیں تو پاؤں پھسلنے کی صورت میں یہ نہایت نیچے تیزی سے گرتے ہیں جن میں ان کی جسم کی اعضاء کی ضائع ہونے کا بھی حدشہ ہے۔ 

گجر آباد اونچائی پر واقع ہونے کے ناطے نہایت خوبصورت گاؤں ہے یہاں سے پورے چترال ٹاؤن کا نظارہ کیا جاسکتا ہے اور ٹھنڈی ہواچلنے کے باعث موسم نہایت خوشگوار رہتا ہے رات کو سردی پڑتی ہے اور اس گرمی کے موسم میں بھی رات کو کمبل اوڑھنا پڑتا ہے قدرت نے تو گاؤں کو حسن دینے میں کوئی کمی نہیں کی ہے مگر حکمرانی میں ان کو بنیادی سہولیات دینے میں کنجوسی سے کام لیا ہے۔ 

وزیر علی اس گاؤں کا پرانا باشندہ ہے جو اب اس گاؤں کا نہیں رہا ان کا کہنا ہے کہ بڑے لوگ تو جیسے تیسے زندگی گزارتے ہیں مگر ہمارے بچے جب سکول جاتے ہیں یا خواتین اور مریض کو ہسپتال لے جانا پڑے تو ان کو یا تو کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے یا کسی چارپائی میں باندھ کر صرف دو افراد اس چارپائی کو اٹھاکر لے جاتے ہیں کیونکہ راستہ صرف ڈیڑھ فٹ ہے جس میں دو افراد بھی بیک وقت نہیں جاسکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنا گھر چھوڑ کر سینگور میں ایک کرائے کے مکان میں رہتا ہے تاکہ ان کی بچوں کی زندگی سکون سے گزرے۔

گجر آباد میں ابھی حال میں بجلی کی ترسیل دی گئی ہے مگر ابھی تک یہاں نہ تو راستہ ہے نہ پانی، نہ ہسپتال اور نہ کوئی سکول۔ بچے سکول جاتے وقت نہایت پر حطر تنگ راستے سے نیچے اترتے ہیں اور جاتے وقت کئی بار سانس باندھ کر کئی مرحلوں کے بعد اوپر اپنے گھر پہنچتے ہیں جو راستے سے دو ہزار میٹر اونچائی پر واقع ہیں۔ 

گجر آباد کے مکین حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آحر وہ بھی پاکستانی ہیں ان کا بھی حق ہے کہ ان کو بھی بنیادی سہولیات فراہم کی جائے ۔ اس گاؤں تک اگر راستہ نہیں تو کم از کم سیمنٹ کی سیڑھیاں ہی بنائی جائے اور ایک چھوٹا ڈسپنسری اور پرائمری سکول قائم کی جائے تاکہ ان کے بچے سکول جاتے وقت اس پر حطر راستے میں زحمی ہونے سے بچ جائے ۔ 

واضح رہے کہ گجر آباد میں زیاد ہ تر گجر برادری کے لوگ رہتے ہیں اور ان کو اکثر رہنے کیلئے مکان کا زمین شاہی حاندان کے ایک مہتر نے مفت دی ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں