12 جون، 2018

فیس بک نے عالمی بلڈ ڈونر ڈے پر نئی سہولت فراہم کردی، فیس بک پر بلڈ ڈونیشنزمخصوص اسپیس مختص

 

 سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے پاکستان سمیت مختلف ممالک میں بلڈ ڈونیشنز کا نیا سینٹر قائم کردیا 

کراچی: فیس بک نے خون کے عطیہ کنندہ کے عالمی دن کے اعزاز میں بلڈ ڈونیشنز (Blood Donations) کے نام سے فیس بک پر ایک نیا مرکز بنایا ہے۔ اس مرکز میں پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برازیل کے لوگوں کو قریبی مقام پر خون کا عطیہ دینے کا موقع حاصل ہوسکے گا۔ اس ضمن میں فیس بک کی جانب سے ان ممالک میں پہلے سے ہی خون کی قلت اور خون کے عطیات کی اہمیت سے متعلق آگہی مہم چلائی جارہی ہے۔ 



جو لوگ فیس بک پر بلڈ ڈونیشنز کا وزٹ کرتے ہیں وہ بلڈ ڈونر کے طور پر اپنے آپ کو فیس بک پر رجسٹر کرواسکتے ہیں اور جب کہیں قریب میں خون کی ضرورت ہو تو براہ راست اسکا نوٹیفکیشن موصول ہوتا ہے۔ اب تک ایک کروڑ سے زائد افراد خون کے عطیات دینے کے لئے اپنے آپ کو رجسٹر کراچکے ہیں اور ہزاروں افراد کو فیس بک کے ذریعے خون کے عطیات حاصل ہو چکے ہےں۔ 

فیس بک اس بات سے واقف ہے کہ جب خون کا عطیہ دینے کے خواہش مند افراد کو معلومات فراہم ہوں اور موقع ملے تو وہ ضرور آگے بڑھ کر مدد کرتے ہیں۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خون کے عطیات دینے کے خواہش مند افراد اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ کب اور کہاں خون کا عطیہ دینا ہے۔ فیس بک پر بلڈ ڈونیشنز سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شہر میں عطیہ دہندگان ، بلڈ بینکس اورخون کے عطیات سے متعلق تقریبات میں اپیل پر لوگ خون کا عطیہ دینے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہم اس مرکز میں ان اداروں کے لئے آسانی کردی ہے کہ وہ خون کے عطیات کی درخواستیں اور تقاریب کا اضافہ کریں۔ لوگ فیس بک کے ذریعے اپنی ڈیوائس پر ایکسپلور مینو میں سے بلڈ ڈونیشنز تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ 

بہت سے ممالک بشمول پاکستان میں مئی اور جون کے مہینوں میں خون کے عطیات میں بڑی کمی آجاتی ہے۔ خون کے عطیات میں قلت اور اسکی اہمیت سے متعلق آگہی بڑھانے کے لئے فیس بک جون کے مہینے میں ایک مہم کا آغاز کررہا ہے جس میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ خون کا عطیہ دیں، ایسے لوگوں کے بارے میں حقائق سامنے لائے جائیں گے جن کی زندگیاں ان فیچرز کے استعمال سے محفوظ رہی ہیں اور لوگوں میں خون کا عطیہ دینے کے عمل سے متعلق شعور بڑھایا جائے۔ 


سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام کے نیشنل کوآرڈینیٹر پروفیسر حسن عباس ظہیر نے بتایا، "موسم گرما کی تعطیلات اور ماہ رمضان کے دوران پاکستان میں خون دینے کے عطیات میں کمی آجاتی ہے اور گزشتہ چند سالوں سے خون کے عطیات میں کمی بڑھ گئی ہے اور مریضوں کو شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے خاص طور پر تھیلیسیمیا کے مریض زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔" 

"پاکستان میں بلڈ بینکوں کو اپنے باقاعدہ ڈونرز سے خون کے عطیات جمع کرنے کیلئے متعدد بار درخواست کرنی پڑتی ہے اور خون کے عطیات کی بحالی یقینی بنانے کے لئے نئے عطیہ کنندگان بنانے پڑتے ہیں تاکہ روانی کے ساتھ متاثرین کو خون کی روانی سے فراہمی برقرار رہے۔ حکومت کا سیف بلڈ ٹرانسفیوڑن پروگرام فیس بک کے ذریعے خون کے عطیات جمع کرنے میں معاونت کررہا ہے اور خون کے عطیات کی درخواستوں پر عمل کرتا ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کے خون کا ایک عطیہ تین مختلف مریضوں کی زندگیاں بچانے میں معاون ہوسکتا ہے۔" 

فیس بک کے ذریعے مستفید ہونے والی شاشہ ایس نے اپنے حالیہ تجربہ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "میرے والد کی اوپن ہارٹ سرجری تھی اور اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ آپریشن کے دوران خون کی کمی پوری کرنے کے لئے 6 بوتل خون کی ضرورت ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے دوست اور واقف کار روزے کی وجہ سے خون کا عطیہ دینے سے قاصر تھے۔ خوش قسمتی سے مجھے فیس بک پر بلڈ ڈونیشن فیچر یاد تھا۔ میں نے جلدی سے اسکے آئیکن پر کلک کیا اور اپنے والد کا بلڈ گروپ اور دیگر تفصیلات شیئر کیں جہاں لوگ خون دے سکیں۔ چند ہی گھنٹوں میں دو اجنبی افراد میرے والد کو خون دینے آئے۔ اب ہماری فیملی بہت خوش ہے، اس سے پہلے ہم انتہائی پریشان تھے کہ ہم ضرورت کے مطابق خون تلاش کرنے سے قاصر تھے لیکن فیس بک کے ذریعے ہمیں ضرورت پوری کرنے میں اضافی مدد ملی۔ آج میرے والد روز بروز بہتری کی جانب گامزن ہیں اور خون کے عطیہ کنندہ کے طور پر سائن اپ کرنے کے لئے میں ہر شخص کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں۔ "

ہم امید کرتے ہیں کہ آگہی پھیلانے اور لوگوں کو مقام و وقت کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ہم خون کے عطیات بڑھاسکتے ہیں جس سے مریضوں کو خون کی پائیدار انداز سے فراہمی میں مدد ملے گی۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں