7 جون، 2018

چترال پولیس کے ہاتھوں تنگ آنے والے شہری نے بھرے بازار میں خود کو آگ لگا دی، ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا



چترال (رپورٹ گل حماد فاروقی) چترال بازار میں پولیس کی مبینہ بدسلوکی کے خلاف شہری نے خودسوزی کرلی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چترال کیپٹن ریٹائرڈ منصور آمان کے دفتر سے جاری شدہ پریس ریلیز کے مطابق جو سوشل میڈیا میں بھی اپ لوڈ ہوچکا ہے۔ بکر آباد کے رہایشی حجیب اللہ ولد مست خان کو پولیس کی بدسلوکی سے تنگ آکر اس نے کڑوپ رشت بازار میں پٹرول پمپ سے پٹرول یا مٹی کا تیل خرید کر خود پر چھڑکایا اور اس کے بعد خود کو آگ لگا کر خودسوزی کی کوشش کی تاہم مقامی لوگوں نے فوری طور پر اس پر پانی اور دیگر مواد ڈال کر آگ بجھا کر اس کو بچالیا تاہم مجروح کو تشویش ناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال منتقل کیا گیا جہاں وہ زیر علاج ہے۔

ہسپتال میں مقامی صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے حجیب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے گھر کے سامنے کسی نے بجلی کا میٹر چرایا ہے جس پر پولیس اسے مسلسل تین روز سے تنگ کررہا ہے اسے صبح بلاتا ہے اور شام کو چھوڑتا ہے اس پر نہ تو کوئی مقدمہ درج ہے اور نہ کسی نے دعویداری کی ہے مگر لگتا ہے کہ پولیس کسی کے اشارے پر اسے بلا وجہ تنگ کررہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک موٹر مستری ہے اور اپنے اہل حانہ کیلئے رزق حلال کماتا ہے مگر پولیس مسلسل تین دنوں سے اسے تھانہ بلاکر اسے مزدوری سے محروم کیا ہوا ہے ا کا مزید کہنا ہے کہ جب پولیس کی وجہ سے میں مزدوری نہیں کرسکا توا س سے تنگ آکر یہ فیصلہ کیا کہ اس سے تو موت اچھی ہے اور اسلئے خود پر تیل ڈال کر خودسوزی کی کوشش کی۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے واقعے کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ چترال سب انسپکٹر حیدر حسین کو ملازمت سے معطل کیا اوراس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دیا۔ 


ڈی پی او چترال نے پولیس افسران اور معززین علاقہ پر مشتمل ایک انکوایری کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ اس واقعے کا شفاف طریقے سے تحقیقات ہوسکے ۔انکوایری کمیٹی میں ایڈیشنل ایس پی چترال، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز، چیرمین ڈسپیوٹ ریزولیشن کونسلDRC، صدر پریس کلب، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال شامل ہیں۔ انکوایری کمیٹی پانچ دن کے اندر تحقیقات مکمل کرکے حقائق کو منظر عام پر لائیں گے۔ ڈی پی او کے مطابق پولیس کی جانب سے کسی بھی بدسلوکی یا اختیارات سے تجاوز کرنے کی صورت میں سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ 

تھانہ چترال سے موقف لینے کیلئے جب ہمارے نمائندے نے فون کیا تو تھانہ محرر نے بتایا کہ بکر آباد کے ایک رہایشی نے درخواست دی تھی کہ اس کے گھر کا میٹر اور 80 گز تار 28 مئی کو چوری ہوا تھا اور اس کا گھر حجیب اللہ کے گھر کے باالکل سامنے ہے تو ہوسکتا ہے کہ چور کو حاجیب اللہ نے دیکھا ہو اس سلسلے میں پولیس نے جب اسے انکوایری کیلئے بلایا 

تو وہ کافی دل برداشت ہوا اور یہ قدم اٹھایا۔ جبکہ دوسری جانب مجروح حجیب اللہ کا الزام ہے کہ پولیس اس کو بلا وجہ تنگ کررہا ہے اور اسے ہراساں کررہا ہے۔ 

ڈی پی او نے اس انکوایری ٹیم میں سول لوگوں کو بھی اسلئے شامل کیا کہ کچھ عرصہ پہلے بریپ کے مقام پر ایس ایچ او شفیع شفاء کے حلاف علاقے کے لوگوں نے احتجاجی جلسہ کیا تھا کہ اس نے مقتول اسلم بیگ کے تفتیش کیلئے مقتول کے باپ سے 35000 روپے گاڑی کیلئے لئے تھے مگر جب ڈی پی او نے ایڈیشنل ایس پی نورجمال کے نگرانی میں انکوائری مقرر کی تو اس میں پولیس افسر کو بے گناہ قرار دیا گیا جبکہ اس مقدمے کے پیروی کرنے والے صوبیدار ریٹائرڈ ہدایت اللہ اچانک فوت ہوا تھا ان کے اہل حانہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانبدارانہ انکوائیری کی وجہ سے وہ نہایت دل برداشتہ ہوکر مر گیا۔

آزاد ذرائع کے مطابق تھانہ چترال کے ایس ایچ او نے جغور کے مقام پر چارسدہ سے تعلق رکھنے والے ایک ترکھان کو اس وقت ہراساں کیا جب ایس ایچ او تھانہ چترال جغور سے گزر رہا تھا اور اس ترکھان نے اسے سلام کیا جس پر پولیس نے گاڑی روک کر اس سے شناحتی کارڈ مانگا اور اسے تھانے میں

طلب کیا۔ نجیب اللہ کے مطابق اسے بتایا گیا کہ اس پر پولیس نے پرچہ کاٹا ہے جبکہ اسے اپنا جرم بھی معلوم نہیں تھا کہ اس پر کس جرم میں پرچہ کاٹاگیا ہے اسے ڈرایا گیا کہ اب اسے جیل جانا پڑے گا تاہم ایک پولیس کی مداحلت پر اس نے پانچ سو روپے دیکر اپنا شناحتی کارڈ منگوایا۔ اس واقعے کے بارے میں ایڈیشنل ایس پی نورجمال کو بھی بتایاگیا کہ پولیس غیر قانونی طور پر ان پاکستانی شہریوں کو بھی تنگ کررہے ہیں جن کے پاس قومی شناحتی کارڈ موجود ہیں اور محنت مزدوری کے سلسلے میں چترال میں آباد ہیں اور چترال کے لاکھوں لوگ دیگر اضلاع میں کام کرتے ہیں ان کے ساتھ لو گ اور وہاں کے پولیس بھی نہایت مشفقانہ انداز سے پیش آتے ہیں اور لوگ چترالیوں کے بہت قدر کرتے ہیں ۔

سابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید علی اکبر شاہ کو موصول ایک تحریری درخواست میں پرویز خان نامی ترکھان نے موقف احتیار کیا تھا کہ اس کے پڑوس میں ایک شحص اس کو تنگ کررہا ہے جس کا چترال پولیس میں کسی کے ساتھ رشتہ داری ہے جس پر پولیس نے اس کے بچوں کو تھانہ بلاکر دھوپ میں سزا کے طور پر ایک ٹانگ پر کھڑے کئے تھے جو ایک غیر انسانی اور غیر اخلاقی سزا ہے اس پر ڈی پی او نے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز معین الدین کے نگرانی میں بھی انکوائری مقرر کی تھی مگر اس انکوائری کا بھی اصغر خان کیس جیسے حشر ہوا اور رزلٹ زیرو رہا۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں