24 اگست، 2018

وادی لاسپور میں 1931 کا بنا ہوا لکڑی کا جھولا پُل یا موت کا کنواں ۔ پل کی از سر نو تعمیر کا مطالبہ

چترال(گل حماد فاروقی) وادی لاسپور میں رامان گاؤں میں دریائے چترال پر لکڑی کا جھولا پُل انتہائی حستہ حالی کا شکار ہے۔ اس پل پر علاقے بھر کے لوگ سفر کرتے ہیں مگر 2015 میں سیلاب کی وجہ سے اس پل کو بہت نقصان پہنچا اس کے آس پاس کٹائی کی وجہ سے پل حطرے میں پڑ گیا۔



ایک مقامی شحص سلیمان کے مطابق یہ پُل 1931 میں بنگلہ دیش کے ایک صوبیدار
میجر آفتاب احمد خان کے زیر نگرانی برطانوی دور حکومت میں تعمیر ہوا تھا اس صوبیدار میجر کا مزار بھی یہی موجود ہے۔

خوش خان ایک مزدور کار آدمی ہے جو روزانہ اس پُل سے گزرتا ہے اس کا کہنا ہے جب سردیوں میں برف باری ہوتی ہے تو اس پُل سے گزرتے ہوئے سکول جانے والے بچے انتہائی حطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ 

یہ پل شندور روڈ پر قدرے نیچے جاکر دریا پر بنا ہوا ہے مگر جب اس پر کوئی موٹر سائکل سوار گزرتا ہے تو پورا پل ہچکولے کھاتے ہوئے جھومتا ہے اور راہگیروں کا سر چکرانے لگتا ہے۔

اس گاؤں کے ایک اور خاتون بی بی جان نے کہا کہ ہم کھیتوں سے جلانے کی لکڑی، گھاس وغیرہ جب لاتے ہوئے اس پل سے گزرتے ہیں تو ہمیں بہت ڈر لگتا ہے کیونکہ پل بہت پرانا ہے اور اس پر پیدل گزرتے ہوئے ہل رہا ہے جس سے ہمیں چکر آنے لگتا ہے اور دریا میں گرنے کا حطرہ ہوتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پل پر تین دیہات کے لو گ گزرتے ہیں اور سردیوں میں اپنے مریضوں کو کندھوں پر اٹھاکر جا نا پڑتا ہے کیونکہ برف باری کی وجہ سے پھسل کر دریا میں گرنے کا حطرہ ہوتا ہے۔

مقامی لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ دریا پر پاکستان بننے سے پہلے اس پل کی جگہہ جدید آر سی سی پل بنایا جائے نیز اس سڑک اور پل کو کشادہ بھی کیا جائے تاکہ اس پر چھوٹی گاڑیاں بھی گزر سکے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں