17 اگست، 2018

چترال کا خوبصورت علاقہ موری لشٹ پانی نہ ہونے کی وجہ سے ریگستان کا منظر پیش کررہا ہے۔ علاقے کے دو ہزار مکین نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومت بروقت کاروائی کرے۔

 



چترال کا خوبصورت علاقہ موری لشٹ پانی نہ ہونے کی وجہ سے ریگستان کا منظر پیش کررہا ہے۔ علاقے کے دو ہزار مکین نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومت بروقت کاروائی کرے۔

چترال(گل حماد فاروقی) چترال سے بونی جاتے وقت قدرے اونچائی پر واقع موری
لشٹ کا علاقہ کسی زمانے میں جنت کا منظر پیش کرتا تھا یہاں انواع و اقسام کے پھلوں کے علاوہ ہر قسم کا فصل بھی اگتا تھا مگر پچھلے کچھ عرصہ سے یہ علاقہ لق دق ریگستان کی طرح خشک پڑا ہے۔ اس علاقے کے نہ تو پائپ میں پینے کا پانی آتا ہے نہ ندی نالوں میں آبپاشی کا پانی۔ یہاں کے ندی نالے اب خشک پڑے ہیں ، پھلوں کے باغات خشک ہونے لگے اور انار، سیب، ناشپاتی ، آڑو، انگور پکنے سے پہلے خشک ہوکر گر رہے ہیں۔

یہ فصل اور پھل اس علاقے کے مکینوں کا کمائی کا واحد ذریعہ معاش تھا اس
کے علاوہ علاقے کے لوگ کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ مال مویشی بھی پالتے تھے
مگر اب پانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنے مال مویشی فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

علاقے کا ایک متاثرہ شحص غلام رسول کا کہنا ہے کہ ان کی فصل تلف ہوگئی
اور میوہ دار درخت خشک ہوگئے انہوں نے مجبوراً اپنا مال مویشی بھی فروخت
کئے جو ان سے دودھ لیتے تھے اب ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔ قاضی اصغر کا کہنا ہے کہ ان کے پھلدار درخت خشک ہوگئے اور کھڑی فصلیں تلف ہوگئی۔ ان کا گندم کا فصل بھی حراب ہوا اب پانی نہ ہونے کی وجہ سے مکئی کا فصل بھی نہیں بوسکے اور صورت حال یہ رہی تو یہ لوگ کسی قریبی ملک کو ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کیونکہ حکومت پاکستان ان کو اگر اپنا شہری نہ سمجھے اور ان کو ان کا بنیادی حقوق نہ دلوائے تو یہاں رہنے کا کیا فائدہ؟۔

علاقے کے معروف سیاسی ، مذہبی اور سماجی کارکن اخونزادہ رحمت اللہ کا کہنا ہے کہ پہلے یہاں بہترین قسم کا انار اور سیب ہوا کرتا تھا اب اس سال پانی نہ ہونے کی وجہ سے انار بھی خشک ہوگئے اور سیب وقت سے پہلے گر رہے ہیں جبکہ پھلدار درخت خشک ہورہے ہیں یہاں کے ندی نالیاں خشک پڑی ہیں اوریہ علاقہ جو ماضی میں جنت کا منظر پیش کرتا تھا اب لق دق ریگستان بنا ہوا ہے اور پورا علاقہ بنجر ہے انہوں نے حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ تین کلومیٹر کے فاصلے پر پانی کے ذحائیر سے ان کیلئے پائپ لائن لائے یا کوئی ندی بنائے تاکہ ان کو پینے کے ساتھ ساتھ آبپاشی کیلئے بھی پانی فراہم ہوسکے اور یہ لوگ نقل مکانی پر مجبور نہ ہو۔

علاقے کے مکینوں نے شکایت کی کہ پہلے یہاں پانی آتا تھا مگر چترال کے ایک
ایکٹنگ ایگزیکٹیو انجنیر محکمہ آبپاشی نے رشتہ داری اور حاندانی بنیاد پر دوسرے لوگوں کو ان کا پانی فراہم کیا اور ان کو محروم رکھا جس کی وجہ سے
ان کی نہایت ذرحیز زمین بنجر ہوگئی اور فصلیں تلف ہوکر خشک ہوگئے۔
اس سلسلے میں محکمہ آبپاشی کے ارباب احتیار کی موقف جاننے کی کوشش کی گئی مگر کوئی ذمہ دار بندہ موجود نہیں تھا اور جو لوگ موجود تھے انہوں نے بات
کرنے سے گریز کر لی۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں