اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

31 اگست، 2018

موڑکہو، چترال میں لکڑی کا پل دریا بوس ہوگیا، سکول جانے والے بچے اور مکین محسور ہوگئے: یہ کہاں پر ہے جاننے کے لئے پڑھیں یہ خبر

وریجون کے علاقہ نوگرام کا جھولا پُل 26 اگست سے دریا برد پڑا ہے۔ علاقے کے بچے پل نہ ہونے کی وجہ سے سکول جانے سے قاصر۔








چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقے ملکہو میں موژ گول اور وریجون کے درمیان نوگرام کے علاقے میں دریا پر لکڑی کا جھولا پُل 26 اگست کو سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو ا ہے اور یہ پل ابھی تک حراب پڑ ا ہے۔ جس کے نتیجے میں سو افراد راستے سے محروم ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں: چترال، موڑکہو میں لکڑی کا بنا ہوا پل دریا بوس ہوگیا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد  افراد اور سکول کے بچے محسور ہوگئے ہیں

ناصرالدین ناظم ویلیج کونسل نوگرام کا کہنا ہے کہ چبیس تاریح کو یہ پل دریا کے پانی نے تباہ کیا اور ابھی تک کسی نے پوچھا بھی نہیں نہ ہی اس کے معائنے یا دوبارہ تعمیر کیلئے کوئی ذمہ دار شحص آیا ہے۔ ان کے مطابق علاقے کے لوگ پل نہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف سے دوچار ہیں اور دریا کے اُس پار لوگ اپنی ضروریات زندگی نہایت پر حطر پہاڑی راستوں پر چڑھ کر لاتے ہیں۔ 

فیصل جو نویں کلاس کا طالب علم ہے اس کا کہنا ہے کہ جب سے یہ پل گرا ہوا ہے اس دن سے ہم سکول نہیں جاتے اور میرے جیسے اور بھی کئی سکول کے بچے تعلیم سے محروم رہ گئے ۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پُل کو جلد از جلد دوبارہ تعمیر کرے تاکہ نہ صرف سکول کے بچے سکول جاسکے بلکہ علاقے کے لوگ بھی اپنی ضروریات زندگی آسانی سے اس پل سے گزر کر لائے۔ واضح رہے کہ یہ علاقہ 2015 کے سیلاب میں بری طرح متاثر ہوا تھا اس وقت آس پاس تمام پل سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے صرف یہ پل بچ گیا تھا جو اب تباہ ہوا۔ پل کا آدھا حصہ دریا میں پڑا ہے اور آدھا حصہ ٹھیک ہے جسے آسانی سے دوبارہ مرمت کیا جاسکتا ہے۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں