26 اگست، 2018

آلو پر ظالمانہ ٹیکس واپس لیا جائے۔ گرم چشمہ کے سینکڑوں عوام کا تحصیل میونسپل انتظامیہ کے حلاف اختجاجی جلسہ۔

 

چترال(گل حماد فاروقی)گرم چشمہ کے سینکڑوں عوام نے پولو گراؤنڈ میں تحصیل میونسپل انتظامیہ (ٹی ایم اے) کے حلاف احتجاجی جلسہ کیا۔ جلسہ سے اظہار حیال کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گرم چشمہ کی سڑکیں ویران ہیں اور 2015 کے سیلاب نے اس سڑک کو صفحہ ہستی سے مٹایا تھا مگر مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھر سے بلچہ ، کودال لیکر اس سڑک کو بنایا تھا ۔ اس کے بعد یہ سڑک تاحال حراب پڑی ہے مگر چترال کے تحصیل انتظامیہ نے آلو چترال سے باہر لے جانے پر ٹیکس عائد کیا ہے جو کہ نہایت ظالمانہ فیصلہ ہے اور سراسر بے انصافی ہے۔ 




مقررین نے کہا کہ میونسپل انتظامیہ کا آلو کے فصل کے پیداوار میں کوئی کردار نہیں ہے اور نہ یہ ان کا کام ہے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت دور دراز سے ندی نالیاں بناتے ہیں اور پائپ کے ذریعے پانی لاکر اپنے فصل کو سیراب کرتے ہیں جبکہ ٹی ایم نے ان لوگوں کو ایک پائپ تک نہیں دیا مگر ان پر 160 روپے فی بوری ٹیکس لگایا۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عبد القیوم رکن ضلع کونسل چترال، خدا پناہ، شیرین خان، گلاب خان، احتبار شاہ وغیرہ نے کہا کہ میونسپل انتظامیہ پہلے ہمیں سڑک بنا کے دے اس کے بعد ٹیکس لگادے۔ انجنیر فضل ربی نے اظہار حیال کرتے ہوئے کہا کہ چترال ٹیکس فری زون ہے مگر انتظامیہ نے آلو کے برآمدگی پر ٹیکس لگا کر زمینداروں کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا ہے۔ 



انہوں نے متنبہ کیا کہ جب تک انتظامیہ یہ ٹیکس واپس نہیں لیا ہمارا احتجاج جاری رہے گا اس کیلئے ہم جیل بھروں تحریک بھی چلانے سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں تحصیل ناظم اور میونسپل آفیسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ ان کا موقف بھی جان سکے مگر کوشش بسیار کے باوجود ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ 

دریں اثناء چترال سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر اور رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان نے پشاور سے فون پر ہمارے نمائندے کو بتایا کہ 2012 میں بھی ٹی ایم اے آلو پر ٹیکس لگانے کی کوشش کررہی تھی جس کی بھر پور محالف کرتے ہوے اسے روک دیا گیا تھا اور دوبارہ جب ٹیکس لگایا گیا تھا تو یہاں کے عوام نے عدالت سے رجوع کیا جس پر عدالت نے ٹی ایم اے کے حلاف فیصلہ دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ جو ٹیکس لیا گیا ہے اسے بھی واپس کیا جائے۔

سلیم خان نے الزام لگایا کہ تحصیل میونسپل انتظامیہ چترال نے پچاس لاکھ 500000 روپے کا ٹنڈر کیا تھا اور اس کا ٹھیکے تحصیل میونسپل آفیسر نے اپنے ایک رشتہ دار کو دیا ہے جبکہ فی بوری 160 روپے ٹیکس عائد کیا گیا ہے مگر گرم چشمہ اور دیگر علاقوں سے جو آلو باہر جاتی ہے اس حساب سے کم ازم کم اس مد میں چار کروڑ روپے 40000000 جمع ہوتے ہیں جس میں پچاس لاکھ میونسپل انتظامیہ لیں گے اور باقی ساڑھے تین کروڑ روپے ٹھیکدار کو فائدہ پہنچایا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ٹھیکدار کو فائدہ دینے کیلئے کیا گیا ہے۔

سلیم خان نے کہا کہ ٹی ایم اے چترال زمینداروں کو کسی قسم کا سروس بھی نہیں دیتے اور محکمہ ذراعت کا بھی کوئی خدمات نہیں ہیں مگر اس کے باوجود بھی ان زمینداروں پر ٹیکس لگایا جاتاہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آلو کی برآمدگی پر عائد ٹیکس کو واپس لیا جائے کیونکہ یہ ٹیکس غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے کیونکہ ٹی ایم اے زمینداروں کو کسی قسم کا بھی سروس فراہم نہیں کرتا اسلئے ان سے ٹیکس لینا بھی غیر اخلاقی ہے۔ 

احتجاجی جلسہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور انہوں نے حکومت کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکس کو واپس نہیں لیا گیا تو وہ بھوک ہڑتال اور پر تشدد احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔بعد میں یہ جلسہ پر امن طور پر منتشر ہوا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں