8 ستمبر، 2018

چترال : تین سل قبل تباہ پل ابھی تک نہیں بن سکا، سابق صوبائی وزیر محمودخان نے افتتاح کیا تھا، اب یہاں صرف 2 مزدور کام کر رہے ہیں

تین سال پہلے سیلاب سے تباہ شدہ وادی موژ گول کا آر سی سی پُل ابھی تک نہیں بن سکا۔ محمود خان جو اس وقت صوبائی وزیر تھے انہوں نے دو سال قبل افتتاح کیا تھا مگر پل کی تعمیر میں صرف دو مزدور کام کرتے ہیں۔ 

چترال(گل حماد فاروقی) سال 2015 کے سیلاب کی وجہ سے وادی موژ گول مکمل طور پر تباہ ہوئی تھی۔ وادی میں کوئی پل کوئی سڑک ، پائپ لائن، راستہ اور آبپاشی کی نہریں مکمل طور پر سیلاب کی نذر ہوئی تھی۔ عوام کے پر زور اصرار پر لوگوں کی آسانی کیلئے دریائے چترال پر سیلاب کی وجہ سے تباہ شدہ پُل کو دوبارہ تعمیر کیا گیا مگر اس کی حالت نہایت حراب ہے اور یہ پہلے ٹرک ایبل پل تھا جو بعد میں جیپ ایبل بنایا گیا۔ 



علاقے کے عوام نے بار بار اپنا آواز اٹھایا تو پاکستان تحریک انصاف کے حکومت میں اس وقت اس دریا پر آر سی سی یعنی سیمنٹ کا پُل بنانے کیلئے چھ کروڑ روپے منظور ہوئے اور سابق صوبائی وزیر محمود خان جو اب خیبر پحتون خواہ کے وزیر اعلےٰ ہے انہوں نے مئی 2017 میں اس کا افتتاح کیا تھا مگر مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اس پل کی تعمیر میں صرف دو مزدور کام کرتے ہیں۔ 

ریٹائر صوبیدار عرفان ولی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس پُل کے ساتھ ایک حفاظتی دیوار بھی بنایا گیا ہے جس پر 600000 ساٹ لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں اگر یہ کام مجھے دیتے تو میں یہ حفاظتی دیوار صرف تین لاکھ روپے میں بنواتا۔پل پر کام بھی نہایت سست رفتاری سے جاری ہے اور لگتاہے کہ یہ اگلے سال بھی نہیں بن سکے گا۔ 

عبد الولی خان کسان کونسلر نے بتایا کہ 2015 کے سیلاب میں ہمارا یہ پل سیلاب میں بہہ گیا تھا جو لکڑی کا پل بنایا گیا وہ پل صراط سے کم نہیں ہے ہم گاڑیوں سے سامان اتار کر اس سے گزارتے ہیں اور سامان کندھوں پر اٹھا کر لے جاتے ہیں۔اور کام بھی سست رفتاری سے جاری ہے۔ 



مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ ساٹ لاکھ کی حفاظتی بند کی تعمیر کا ٹھیکہ جو دیا گیا تھا وہ کام ایک بااثر شحص نے کیا اور اس دیوار کو ایسی جگہہ بنانا چاہئے تھا تاکہ آئندہ دریا کا پانی سڑک یا پل کو نقصان نہ پہنچائے۔ 

مقامی لوگوں نے صوبائی وزیر اعلےٰ محمود خان سے مطالبہ کیا کہ انہوں نے خود اس پل کا افتتاح کیا تھا تو محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے حکام کو ہدایت کرے کہ اس پر کام کی رفتار تیز کرے۔ مقامی لوگ یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف کی نفاذ اور بدعنوانی کے حاتمے کے دعویدار حکومت اس سلسلے میں تحقیقات کرے کہ اس حفاظتی دیوار پر کتنا رقم خرچ ہوا اور اگر مقررہ مقدار سے زیادہ رقم خرچ ہوئی ہو تو متعلقہ افسران کے حلاف کاروائی کی جائے نیز پل کی تعمیر پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے ۔






کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں