22 ستمبر، 2018

جنگلاتی علاقے شیشی کوہ کے متاثرین کا چیف جسٹس آف پاکستان کے چترال آمد پر ٹمبر مافیا کے حلاف احتجاج۔ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے متاثرین کا مطالبہ

 

جنگلاتی علاقے شیشی کوہ کے متاثرین کا چیف جسٹس آف پاکستان کے چترال آمد پر ٹمبر مافیا کے حلاف احتجاج۔ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے متاثرین کا مطالبہ



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے پہلے اور تاریحی قصبے دروش سے متصل وادی شیشی کوہ کے جنگلاتی علاقے کے متاثرین نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے چترال آمد کے موقع پر ان کے راستے میں احتجاج کرنے کیلئے بینرز اٹھائے تھے تاہم چیف جسٹس صاحب طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے اس راستے سے نہیں گزرے۔ 

متاثرین احسان الحق اور فضل رزاق جنرل کونسلر شیشی کوہ کے قیادت میں احتجاج کر رہے تھے جنہوں نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے کہ ان کو انصاف دلایا جائے۔ وہ نعرے بھی لگا رہے تھے کہ ظلم کا جواب دو جنگل کا حساب دو۔ مقامی میڈیا کے سامنے باتیں کرتے ہوئے متاثرین نے کہا کہ ان کی جنگلات کی کٹائی کی مد میں 23 کروڑ روپے بنتے ہیں جن میں سے چند مفاد پرست عناصر جو نام نہاد لیڈر بنے ہوئے ہیں جعلی طریقے سے ان کی دستحط کرکے ان کے نا م پر حطیر رقم ہڑپ کی ہے ان کو پانچ ہزار اور جس کا زیادہ حصہ بنتا ہے ان کو ڈیڑھ لاکھ روپے دئے ہیں جبکہ قانونی طور پر ان میں سے ہر گھرانے کو پچیس سے تیس لاکھ روپے ملنے چاہئے۔ 

متاثرین نے الزام لگایا کہ ان عناصر نے جعلی طریقے سے جوائنٹ فارسٹ منیجمنٹ کمیٹی بنائی ہیں جن میں زیادہ تر اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کو عہدہ دار بنائے ہیں جنہوں نے جعلی دستخطوں سے رائلٹی کی مد میں ان کا حق ہڑپ کیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام لوگوں کے نام ڈپٹی کمشنر چترال کو تحریری طور پر دئے ہیں اور درخواست کی ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے اور ان لوگوں سے باز پرس کی جائے کہ انہوں نے کیوں جعلی طریقے سے یہ رقم ڈپٹی کمشنر سے وصول کرکے آپس میں بانٹا اور اصل حقداران کو محروم رکھا۔ 

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جنگلات کی رائلٹی کی فنڈ میں سے جو رقم ابھی تک ڈپٹی کمشنر کے اکاؤنٹ میں پڑا ہے اس کی تفصیلات بھی سامنے آنا چاہئے اور یہ رقم اصل حقداران کو کراس چیک کے ذریعے ڈپٹی کمشنر خود دے نہ کہ ان لوگوں کے ذیعے بھجوائے ورنہ ایک بار پھر یہ متاثرہ لو گ اپنے حق سے محروم رہیں گے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر چھٹی ہونے کی وجہ سے وہ دفتر میں نہیں تھے۔ 

متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ غریب اور سادہ لوگ ہیں اور جن نام نہاد لیڈروں نے ان کے نام پر رایلٹی کا پیسہ کھایا ہے وہ اس علاقے کے اصل باشندے بھی نہیں ہیں وہ ڈوگ درہ اور دیگر علاقوں سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔

متاثرین نے کہا کہ اس سے قبل ہم نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بھی مطالبہ کیا تھا کہ لاٹ نمبر 641, 642m 662m 663 کے اربوں روپے کی رائلٹی علاقے کے ایک نام نہاد لیڈر، محکمہ جنگلات اور فارسٹ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن نے آپس میں گھٹ جوڑ کے ذریعے ہڑپ کئے ہیں او ر ان کو گنتی کے چند روپے دئے گئے ہیں ا نہوں نے کہا کہ ہم پہاڑ کے دامن میں جنگلاتی علاقے میں رہتے ہیں اور تباہ کن سیلاب کی وجہ سے صرف ہم ہی متاثر ہوتے ہیں جبکہ یہ لوگ شہروں میں رہتے ہیں اور جب ہم اپنی رایلٹی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں سنگین نتائج کا دھمکی دیتے ہیں۔ متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی اپیل کی ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کی جائے اور ان کو ان کا جائز حق دی جائے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں