12 ستمبر، 2018

وادی گولین میں ہزاروں سال پرانے صنوبر کے درخت حکام کی توجہ کا منتظر۔ صنوبر کے اس قیمتی اور ہزاروں سا ل پرانی جنگل کی حفاظت کی اشد ضرورت ہے ۔

وادی گولین میں ہزاروں سال پرانے صنوبر کے درخت حکام کی توجہ کا منتظر۔ صنوبر کے اس قیمتی اور ہزاروں سا ل پرانی جنگل کی حفاظت کی اشد ضرورت ہے ۔

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کی جنت نظیر وادی گولین ابھی تک سیاحوں کے ساتھ ساتھ حکام کی نظروں سے بھی اوجھل رہی ہے۔ یہ وادی چترال شہر سے صرف45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے مگر اس کی سڑکیں کھنڈر کا منظر پیش کرتا ہے اور یہاں پہنچنے کیلئے دو سے ڈھائی گھنٹے لگتے ہیں۔ 

وادی گولین میں پہاڑوں کے پیچھے سینکڑوں سال پرانے برفانی تودے (گلیشئر) پڑے ہیں جو اب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پگھل کر ان پہاڑوں کے نیچے سے صاف پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔چاروں طرف دودھیاں اور صاف پانی کے چشمے صنوبر کے اس جنگل کی خوبصورتی میں اضافی کرتی ہے۔

صنوبر کا یہ قدرتی جنگل ہزاروں سالوں سے اس وادی کی زینت کا باعث بنا ہوا ہے مگر حکام کی غفلت کی وجہ سے یہ جنگل بھی آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جارہا ہے۔ محکمہ جنگلات کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض کا کہنا ہے کہ ان درختوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ سے یہاں کھڑے ہیں کیونکہ یہ بہت پرانے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات اب یہاں دیگر پودے لگاکر صنوبر کے اس قیمتی جنگل کی حفاظت کیلئے ا س کے ارد گرد جنگلہ لگائیں گے تاکہ صنوبر کے یہ قیمتی درخت مال مویشی کی چھرانے سے بچ جائے اور اسے فروغ دیا جاسکے۔

قاضی محمد جنید ایک مقامی سیاح ہے ان کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی بھی ایسی خوبصورت جگہہ نہیں دیکھی تھی یہاں آکر وہ حیران رہ گیا کہ چترال میں اتنی خوبصورت جگہہ بھی ہیں جہاں ہزاروں سال پرانی صنوبر کے درخت موجود ہیں۔ 
جواد حسن ایک طالب علم ہے جو پشاور سے ان حسین نظاروں کو دیکھنے آیا ہے اس نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ جب ہم چترال آرہے تھے تو راستے میں کافی تھکاوٹ ہوئی اور واپس جانے کا ارادہ کیا مگر جب یہاں پہنچ کر ان حسین نظاروں کو دیکھا تو بہت مزہ آیا۔ ہم تو گاؤں میں بالکل سوئے ہوئے تھے اور کافی بور ہوئے تھے مگر یہاں قدرتی آبشار، صاف پانی کے چشمے، صنوبر کے پرانے اور خوبصورت درخت سیاحوں کو کھینچ لاتی ہے۔ 

وادی گولین کو قدرت نے بے نتہا حسن دیا ہے مگر اس کی راستے نہایت حراب ہے سارا راستہ کچا ہے اور جگہہ جگہہ اس میں کھڈے پڑے ہیں اگر گولین وادی تک راستے بنائے جائے تاکہ سیاحوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو تو کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح اس وادی کا رح کریں گے جس سے اس خوبصورت مگر پسماندہ وادی کے مکینوں کا قسمت ضرور بدلے گا۔ اس وادی میں آلوکا فصل بہت ہوتا ہے اور یہا ں کا آلو چپس بنانے کیلئے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ وادی میں سیب، اخروٹ، ناشپاتی، آڑو کا پھل بھی پایا جاتا ہے۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں