22 ستمبر، 2018

قرضوں سے چھٹکارا پانا ہوگا، پاکستان کے دشمن سازشوں میں مصروف ہیں: چیف جسٹس کا چترال میں خطاب

 

چترال (نیوز ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارنے ڈسٹرکٹ بار روم چترال میں وکلاء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دشمن سازشوں میں مصروف ہیں، قرضوں سے چھٹکارا پانے کیلئے قدم اٹھانا ہوگا۔



انہوں نے کہا کہ ہمیں دیانت داری کی عادت کو اپنانا چاہئے اور اس عمل کو ہر ایک کو اپنی ذات اور اپنے گھر سے ہی شروع کرنا ہے، پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، یہ مسئلہ آگے جاکر گھمبیر صورت اختیار کرسکتا ہے، ملک کے مخالفین اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو قوت کے ذریعے زیر کرنا ممکن نہیں ہے، اس لئے وہ اس کے خلاف سازشوں کا سوچ رہے ہیں۔  چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ کبھی بھی بار اور بینچ میں تفریق روا نہیں رکھی۔ انہوں نے چترال میں سڑکوں کی خراب انفراسٹرکچر پر انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں چترال کے روڈ خچر کے بھی قابل نہیں ہیں، اس بات پر حکمرانوں سے آئین کے تحت باز پرس بھی کی جائے گی کیونکہ سڑک بنیادی سہولیات میں سے ایک ہے اور موجودہ صورت حال ناقابل برداشت ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لواری ٹنل کو 24 گھنٹے کھلا نہ رکھنے کا نوٹس لے لیا ہے اورچیئر مین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو پانچ دنوں کے اندر جواب طلبی کی ہے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں اسٹاف اور ادویات کی کمی کو پورا کرنے کے حوالے سے کہا کہ حکومت کو تین ماہ کی مہلت دے دی ہے جبکہ ادویات کی پروکیورمنٹ میں ٹیسٹنگ کے مرحلے کو سہل تر بنا دیا ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں