18 ستمبر، 2018

چترال کے محتلف مارکیٹوں میں چھاپہ، ہزاروں کی تعداد میں جعلی اور زائدالمیعاد اشیاء برآمد، فروخت کنندگان کو جرمانہ

ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر(ایگزیکٹیو مجسٹریٹ) فضل الرحیم نے چترال کے محتلف
مارکیٹوں میں چھاپہ مارکر ہزاروں کی تعداد میں جعلی اور زائدالمیعاد
چیزیں برآمد کرلی۔ ملزمان کو موقع پر جرمانہ کیا گیا۔

چترال(گل حما د فاروقی) عوام کے شکایت پر ضلعی انتظامیہ جعل سازوں کے حلاف حرکت میں آگئی۔ چترال کے ایڈیشنل اسسٹنٹ مجسٹریٹ ایگزیکٹیو مجسٹریٹ فضل الرحیم نے چترال کے محتلف بازاروں پر چھاپہ ماکر دکانوں کی تلاشی لی اس دوران ان دکانوں سے ہزاروں کی تعداد میں جعلی اور زائد المیعاد Expire شیمپو، صابن، کریم، مٹھائی، منرل واٹر، شربت وغیرہ برآمد کرکے دکانداروں کو جرمانہ کیا اور ان ناقص چیزوں کو اپنے قبضے میں لیکر اسے نذر آتش کیا  جائے گا۔

بازار میں ایسے کئی دکاندار پائے گئے جنہوں نے ان مصنوعات کی میعاد حتم  ہونے کے بعد ان پر دوبارہ سے اپنے طرف سے بنائے ہوئے مہر لگا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ ابھی Expire نہیں ہوا ہے۔ بازار میں جعلی جوس، کوک، منرل واٹر، پیسپی وغیرہ بھی پائے گئے جو اصل نہیں ہے اور چوری چپھے کسی اور جگہہ تیار کئے جاتے ہیں جن پر کمپنی کا ٹریڈ مارک بھی غلط طریقے سے محتلف جگہوں پر لگائے گئے تھے۔



ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کو اطلاع ملی کہ جغور کے مقام پر ایک شحص نے گھر کے اندر جعلی جوس کی فیکٹری بنائی ہے جس میں حالی بوتلیں نیچے سے  نگواکر
مینگو، فروٹینا، خوبانی، سیب، آم، انار، آڑو یعنی چھ قسم کے جوس گھر میں تیار کرکے ان برانڈوں کے ان کے پاس چھاپ شدہ لیبل تھے جو ان بوتلو ں پر لگاکر لوگوں کو یہ زہر بیچتا تھا۔ اس کے قبضے سے ایسا مہر بھی برآمد کیا گیا جن پر محتلف تاریح درج تھے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ مہر بوتل پر نہیں بلکہ کاغذ یعنی لیبل کے اوپر لگایا جاتا تھا اگر مقررہ وقت حتم ہوجائے تو وہ لیبل ہٹاکر دوسرا لگا تا جس پر دوسرا مہر لگا کر تاریح کو آگے بڑھاتا۔ اس شحص کے پاس نہ تو کوئی لائسنس تھا اور نہ دیگر کاغذات۔ اے اے سی نے ان تمام چیزوں کو اپنے قبضے میں لے لیا اور ان پر بھاری جرمانہ لگایا تاہم اس جعلی فیکٹری کو چلانے والا مالک انتقال کرچکا تھا اور اس کے بچے تھے جس کی وجہ سے ان کو جیل نہیں بھیج دیا کیونکہ ان کی عمریں کم تھی۔

نابیگ کیلاش وکیل نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ہمیں پتہ بھی نہیں تھا کہ یہ جعلی جوس نما زہر یہاں مقامی سطح پر تیار ہوتے ہیں جنہیں ہم خود بھی پیتے ہیں اور بچوں کو بی پلاتے ہیں ۔ چترال کے بڑی تعداد میں عوام نے ان ناقص اور جعلی چیزوں کو دیکھنے کیلئے اے اے سی کے دفتر پہنچ گئے اور ان کی اس اقدام کو نہایت سراہا۔

اس موقع پر ایگزیکٹیو مجسٹریٹ فضل الرحیم نے صحافیوں کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے جعل سازوں کے حلاف کریک ڈاؤن کیا ہے اور جو لوگ عوام کی صحت سے کھیل رہے ہیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان دکانداروں سے باقاعدہ سٹام پیپر پر تحریری اقرار نامہ لیا کہ وہ آئندہ ان چیزوں کو نہ لائیں گے اور نہ انہیں بیچیں گے اگر دوبارہ انہوں نے ایسا جرم کیا تو پھر ان کے اوپر نوے ہزار 90000 روپے جرمانہ اور چھ سال قید کی سزا دی جائے گی۔

اس موقع پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرے اور جہاں بھی کوئی جعلی یا زاید المیعاد چیز فروخت ہورہی ہو تو اس کے بارے میں انتظامیہ کے نوٹس میں ضرور لائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں