28 ستمبر، 2018

چترال، چلمر آباد وادی کے لوگ غربت کے لکھیر سے نیچے زندگی گزار نے پر ،مجبور، خشک سالی کی وجہ سے وادی میں کوئی فصل نہیں اُگ سکی، کوئی پرسان حال نہیں

چترال کے نہایت شمال مغرب میں واقع چلمر آباد وادی کے لوگ غربت کے لکھیر سے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور۔ امسال خشک سالی کی وجہ سے وادی میں کوئی فصل نہیں اُگ سکا۔



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے انتہائی شمال مغرب میں واقع چلمر آباد بستی کے لوگ غربت کے انتہائی لکھیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ وادی افغانستان کے علاقہ واخان کے سرحد پر واقع ہے ۔ اس پورے بستی میں رہنے والے لوگوں کیلئے کوئی روزگار کا موقع نہیں ہے یہاں کے مرد گھاس کاٹ کر اسے خشک کرکے دوسرے علاقوں میں جاکر بیچتے ہیں جبکہ خواتین مال مویشی پالتی ہیں اور ان کا دودھ لیکر اس سے محتلف چیزیں بناتی ہیں مگر راستے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی خریدار بھی نہیں آتا۔

حصول بیگم ایک بیوہ خاتون ہے جس کی شادی گلگت میں ہوئی تھی مگر شومیی قسمت کا کیا کرے کہ اس نے سوچا تھا کہ چلو یہاں دن بدل جائیں گے مگر شادی کے دوسرے سال شوہر کا انتقال ہوا اور اسے رکھنے کیلئے سسرال میں کوئی تیار نہیں تھا واپس اپنے میکے آنا پڑا۔

ایک اور ناحواندہ خاتون ناہیدہ کہتی ہے کہ وہ صرف یہ بھیڑ بکریاں اور گائے پالتی ہے اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتی کیونکہ یہاں یہ لوگ ان دو پہاڑوں کے بیچ میں رہتے ہیں ۔

عبد الحکیم جو بہت دور سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر آرہا تھا کیونکہ اس وادی میں سڑک نام کا کوئی چیز نہیں ہے اور لوگ سفر کرنے اور مال برداری کیلئے گھوڑے، گدھے اور یاک (جنگلی بیل) استعمال کرتے ہیں۔ عبد الحکیم نے کہا کہ یہاں بہت غربت ہے یہاں کوئی سکول ، ہسپتال اور سڑک بھی نہیں ہے۔ اس وادی میں کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ہے۔ ان لوگوں نے ابھی تک گاڑی بھی نہیں نہ بجلی نہ ٹی وی یا کوئی اور سہولت کی چیز۔ بس یہ لوگ ان چھوٹے چھوٹے جھونپڑی نما گھروں میں رہتے ہیں جو بمشکل ڈیڑھ سو فٹ مربع پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں جانے کیلئے ایک سوراح چھوڑا جا تاہے۔







عبد الشریف بھی اس پسماندہ بستی کا رہایشی ہے ان کا کہنا ہے کہ اس وادی میں بجلی وغیرہ کا نام ونشان تک نہیں ہے لوگ گرم چشمہ گاؤں سے گھوڑے یا گدھے پر آٹا یا کوئی دال وغیرہ لاتے ہیں جو غریب لوگ ہیں ان کے پاس گدھا یا گھوڑا بھی نہیں ہوتا وہ کندھے پر اپنا سامان اٹھا کر لاتا ہے ۔ اس نے مزید بتایا کہ اس سال بارشیں نہیں ہوئی تو ہمارے ہاں کوئی فصل بھی نہیں ہوا اور ہم فاقہ کشی کے شکار ہیں انہوں نے کہا کہ ہم یارخون کے غلہ گودام سے گندم لاکر پن چکی سے پیستے ہیں اگر پانی کم ہو تو پن چکی بھی نہیں چلتا او ر ہم اپنے گندم کو بھی نہیں پھیس سکتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ لوگ فاقے گزاریں گے اور کیا کرے۔

ان لوگوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کیلئے راستے بنائے، یہاں بجلی فراہم کرے، اور لوگوں کی علاج معالجے کیلئے ہسپتال تعمیر کرے ان کو تعلیم دینے کیلئے سکول، کالج اور خواتین کو روزگار فراہم کرنے کیلئے کوئی دستکاری مرکز کھول دیا جائے تاکہ ان لوگوں کی زندگی میں بھی قدرے آسائشیں آئے جو انتہائی غربت کی لکھیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں