14 ستمبر، 2018

پاکستان میں خواتین کو کاروبار کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لئے فیس بک نے ’شی مینز بزنس ‘ پروگرام کو وسیع کردیا

 

پاکستان میں خواتین کو کاروبار کرنے میں  مدد  فراہم کرنے کے لئے فیس بک نے ’شی مینز بزنس ‘ پروگرام کو وسیع کردیا

یونیورسل سروس فنڈ اسلام آباد اور پنجاب آئی ٹی بورڈ لاہور کے ساتھ شراکت
چھوٹے کاروباروں کے لئے ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ اور آن لائن تحفط
یوایس ایف کا اشتراک 80 شہروں تک محیط ہوگی اور 8 ہزار خواتین تک رسائی ہوسکے گی
پی آئی ٹی بی ہرسیلف پروگرام   کے ساتھ اشتراک   پنجاب بھر سے 150 ٹرینرز اور 12000 خواتین ٹرینیز تک رسائی

اسلام آباد : فیس بک نے آج یونیورسل سروس فنڈ اسلام آباد اور پنجاب آئی ٹی بورڈ لاہور کے ساتھ شراکت سے اپنے شی مینزبزنس #SheMeansBusiness  پروگرام کا اجرا کردیا ہے۔  یہ پروگرام کاروباری خواتین کو معلومات، رابطوں، قابلیتوں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے کاروبار کو مستحکم کرنے اور آن لائن فروع کے لئے مدد فراہم کرےگا۔


فیس بک نے حال ہی میں یونیورسل سروس فنڈ  اور پنجاب آئی ٹی بورڈ کے ساتھ شراکت سےاپنے شی مینزبزنس #SheMeansBusiness پروگرام کا اجرا کردیا، پروگرام کاروباری خواتین کو معلومات، رابطوں، قابلیتوں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے کاروبار کو مستحکم کرنے اور آن لائن فروع کے لئے مدد فراہم کرےگا۔تصویر میں مس کلیر ڈیوے  ڈائریکٹر کمیونیٹی آفیئرز، اے پی اے سی، فیس بک وفاقی ویزر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام  خالد مقبول صدیقی  کو یاد گار پیش کررہی ہیں، تصویر میں حارث ایم چوہدری ، سی ایف او، یوایس ایف بھی موجود ہیں۔


ڈیجیٹل پاکستان کے تحت فیس بک’ شی مینز بزنس‘ یونیورسل سروس فنڈ اور پنجاب آئی ٹی بورڈ کے ساتھ شراکت سے آئندہ 3 سالوں میں پاکستان بھر میں 20 ہزار خواتین تک رسائی حاصل کرکے انہیں ڈیجیٹل سکل کی تریبیت اور چھوٹے کاروباروں کی ترقی اور آن لائن تحفظ فراہم کرے گا۔ پی آئی ٹی بی کے ساتھ شراکت سے  ایک سہ ماہانہ ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام  جو  پی آئی ٹی بی کے ’ہرسیلف‘ پروگرام کے حصہ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ 

سال 2016 سے عالمی یوم خواتین   کے موقع پر اپنےآغاز سے لیکر  اب تک ’شی مینز بزنس ‘ بشمول پاکستان21 ممالک تک پھیل چکا ہے اور 42 ہزار کاروباری خواتین کو تربیت فراہم کرچکا ہے۔ 

ڈائریکٹر کمیونیٹی آفیئرز، اے پی اے سی، کلیر ڈیوے نے کہا ’’جب خواتین اچھا کام کرتی ہیں ، اس کا فائدہ سب کو پہنچتا ہے۔ زیادہ تر خواتین ملازمت پیشہ ہیں، کئی رول ماڈلز تیار ہوئی ہیں اور یہاں گونا گونی موجود ہے۔ ہم دنیا بھر میں ’شی مینز بزنس‘  کمیونیٹی کے تعاون اور حوصلہ افزائی سے  فیس بک پر حیرت انگیز چیزیں کررہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یوایس ایف اور پی آئی ٹی بی کے ساتھ شراکت  سے ہم امید کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی خواتین کاروبار شروع کرنے اور کاروبار کی ترقی کے لئے بااختیار اور پرجوش  ہونگی۔‘‘ 

دنیا بھر میں  43 فیصد سرگرم  چھوٹے کاروباروں سے متعلق فیس بک پیجز  خواتین کے ہیں، اس تناسب سے  سال 2017 میں اس میں 21 فیصد اضافہ ہوا اور  سال 2015 سے سال بہ سال 94 فیصد سے زیادہ  اضافہ  ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور اس  جیسے دیگر ممالک کے ساتھ نئی شراکت داریاں قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی جہاں  ڈیجیٹل میں شمولیت اور خواتین کو بااختیار بنانے کا رجحان تیز تر ہے۔

فیس بک  کے فیوچر آف بزنس سروے کی   مدد سے یہ پروگرام تبدیلی  لاسکتا ہے۔  عالمی بینک اور او ای سی ڈی کے ساتھ کئے جانے والے سروے  کے مطابق  وہ کاروبار جن کو خواتین چلاتی ہیں، مردوں کےچلائےجانے والے کاروبار کے  مقابلے  میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں ۔ کیونکہ خواتین اپنے کاروبار کے لئے آئن لائن ٹولز مستعدی سے استعمال کرتی ہیں ۔ ترقی پزیر ممالک میں خواتین کے اندر زیادہ کاروباری رجحانات پائے گئے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں خواتین  اپنے خاندانوں کی بہتری کے لئے کاروبار کرنا پسند کرتی ہیں جن میں    بنیادی  صارف  دوست مصنوعات اور سروسزکا کاروبار کرتی ہیں۔ اس عمل سے یہ خواتین مقامی معیشت کے لئےحقیقی انجن کا کام کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے بہت سے فوائد ہو سکتے ہیں۔ اس عمل سے نوکریوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے او ر چھوٹے پیمانے پر مختلف نئے کاروبار شروع ہونے کی وجہ سے معاشی ترقی ہو گی۔ یہ اس وجہ سے ممکن ہے کیونکہ entrepreneurs معاشرے میں نوکریوں کے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں او ر اپنے ساتھ کام کرنے والے افراد بشمول ملازمین ، سرمایہ کاروں ، سپلائرز اور دیگر اداروں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں ۔

’شی مینز بزنس‘ کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے  ، سی ایف او۔ یوایس ایف حارس ایم چوہدری نے کہا ’’شی مینز بزنس  ایک بہترین اقدام ہے اور یو ایس ایف   آئی سی ٹی گرلز پروگرام کے لئے ایک  شاندار موقع ہے اور ’ٹرین دی ٹرینر‘ اپروچ  کو استعمال کرکے شریک طالبات   اپنے  کاروبار  چلانے کے لئے ٹولز اور تیکنیک  سیکھ سکیں گی۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’اس ٹریننگ میں  اہم موضوعات جیسے ڈیجیٹل سیفٹی شامل ہے جو شناخت کی چوری سے تحفظ ، انٹرنیٹ کا ذمہ دارانہ اور محفوظ استعمال جیسے مسائل  سے متعلق آگاہی فراہم کرتا ہے۔  ان طالبات کو   محفوظ ماحول میں معاشی طور پر خودمختار بنانا  یوایس ایف کے پروگرام  کا اصل مقصد ہے اور فیس بک کے ساتھ شراکت سے پاکستان میں خواتین  کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔ ‘‘

یہ پروگرام  رواں سال  چلے گا اور 13ستمبر2018 سے اسلام آباد اور 14 ستمبر 2018 سے لاہور میں شروع ہوگا۔

شی مینز بزنس پاکستان پر جائیے:    https://shemeansbusiness.fb.com/pk/




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں