6 ستمبر، 2018

چترال کی خوبصورت وادی گولین میں وزیر اعظم شجر کاری مہم کے تحت چالیس ہزار پودے لگائے جارہے ہیں۔ مہما کا باقاعدہ آغازڈی سی چترال کیا

 


چترال (گل حماد فاروقی) وزیر اعظم شجر کاری مہم کے تحت چترال کے دور آفتادہ مگر خوبصورت ترین وادی گولین کے جنگل علاقے میں محکمہ جنگلات اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے چالیس ہزار پودے لگائے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں جنگل نامی وادی میں باقاعدہ مہم کا آغاز کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود مہمان حصوصی تھے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز، ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض خٹک، کمیونٹی ڈیویلپمنٹ آفیسر شہاب الدین اور دیگر عملہ بھی موجود تھا۔ اس مہم میں چترال لیویز فورس کے جوان بھی باقاعدہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ 





پلانٹ فار پاکستان یعنی پاکستان کیلئے پودے جو وزیر اعظم کا ایک منصوبہ ہے اس کے تحت گولین کے وادی جنگل میں چالیس ہزار پودے لگائے جارہے ہیں جبکہ دروش اور چترال کے محتلف زمینداروں میں دس ہزار پودے مفت تقسیم کئے گئے۔


ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ہم نے چترال کے زیرین علاقے میں شجر کاری کی اور اب بالائی علاقے میں پودے لگائے جارہے ہیں۔ انہوں نے وادی گولین کا بہت تعریف کیا کہ یہ نہایت خوبصورت وادی ہے مگر ابھی تک چھپا ہوا ہے کسی نے اسے دیکھا نہیں تو اس وادی میں پودے لگاکر جنگل لگایا جائے تو بہت زیادہ سیاح یہاں آئیں گے۔

ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض نے کہا کہ یہ وزیر اعظم شجر کاری مہم کا حصہ ہے یعنی پلانٹ ز فار پاکستان جس میں ہم نے دروش، چترال کے علاقے میں لوگوں کو مفت پودے بھی تقسیم کئے گئے اور یہاں چالیس ہزار پودے مزید لگائے جارہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وادی میں بہت بڑی تعداد میں صنوبر کے درخت ہیں مگر نہایت نایاب اور قیمتی درخت ہیں مگر جنگل نہ ہونے کی وجہ سے یہ حتم ہورہے ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ اس وادی میں جنگل کو فروغ دیکر ان صنوبر کے درختوں کو بچائے اس کیلئے ہم اس کے ارد گرد کانٹا تار یا بھاڑ لگائیں گے اور مقامی لوگوں کیلئے شفتل یا کوئی اور چارے کا بندوبست کریں گے تاکہ وہ بکریوں کو صنوبر کے جنگل میں نہ چھرائے اور اس سے یہ جنگل کامیاب ہوگا۔

منیب الرحمان ایک مقامی شحص ہے اس نے بتایا کہ اس علاقے کا نام جنگل ہے مگر یہ صرف نام کا جنگل تھا جنگل نام کا کوئی چیز یہاں موجود نہیں تھا ماضی میں یہاں دیار اور دیگر قیمتی درخت ہوا کرتے تھے مگر وہ اب نہیں رہے اب محکمہ جنگلات والے یہاں پودے لگارہے ہیں تو یہ جنگل نامی وادی حقیقت میں ایک جنگل بن جائے گا جا جس سے سیلاب کا حطرہ بھی حتم ہوگا اور یہ علاقہ بھی خوبصورت لگے گا۔ 

ضیا ع الرحمان نے بتایا کہ ہم بہت خوش ہیں کہ جنگلات والے پہلی بار یہاں پودے لگارہے ہیں جس سے سیلاب بھی نہیں آئے گا اور ہماری جنگل بھی کامیاب ہوگی۔

وادی گولین چترال سے کوئی چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے مگر یہ وادی نہایت خوبصورت ہے اور موسم نہایت خوشگوار ہے یہ واحد وادی ہے جہاں پہاڑوں کے نیچے سے قدرتی چشموں سے پانی ابل کر نکلتا ہے جو ایک دریا کا صورت احتیار کرچکا ہے۔ 

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس وادی کا سڑک بن جائے اور سیاحوں کی رہنے کیلئے سہولیات فراہم کی جائے تو یہ بہت بڑا سیاحتی علاقہ ہوگا۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں