14 ستمبر، 2018

چترال پسماندہ وادی کیلاش کے بریر میں ڈپٹی کمشنر نے کھلی کچہری کا انعقاد کیا،عوام نے شکایات کے انبھار لگائے۔ ڈی سی نے موقع پر احکامات جاری کئے

 


چترال کے خوبصورت مگر پسماندہ وادی کیلاش کے بریر میں ڈپٹی کمشنر نے سرو س کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ کھلی کچہری میں عوام نے شکایات کے انبھار لگائے۔ ڈی سی نے موقع پر احکامات جاری کئے۔



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے خوبصورت مگر پسماندہ ترین وادی کیلاش کے بریر گاؤں میں ڈپٹی کمشنر چترا ل خورشید عالم محسود نے سروس کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز کے علاوہ تمام سرکاری محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ کھلی کچہری میں عوام نے شکایات کے انبھار لگادئے ۔

منتحب ناظمین او ر کونسلران نے کہا کہ وادی بریر کا سڑک نہایت تنگ اور حراب ہے۔ اس وادی میں صرف ایک سول ڈسپنسری ہے جس میں اکثر مریضوں کو دوائی نہیں ملتی جبکہ وادی کے آبپاشی کی نہریں 2015 کی سیلاب میں تباہ ہوئے تھے جس کی وجہ سے ہماری ذرعی زمین بنجر پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول ڈسپنسری کو بنیادی مرکز صحت کا درجہ دیا جائے جبکہ ہائی سکول کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دیا جائے۔ 

عوا م نے شکایات کیا کہ عمارتی لکڑی کی پرمٹ غیر مقامی لوگوں کو اثر رسوح کے بنیاد پر تو ملتے ہیں مگر مقامی لوگ اس سے محروم ہیں۔ ناظمین نے کہا کہ پولیس چوکی کا عملہ ابھی تک کرائے کے مکان میں رہتا ہے جس سے مقامی لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وادی میں سرکاری کی طرف سے کوئی غلہ گودام نہیں ہے۔ 

ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر اقدامات اٹھاتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کے تمام مسائل ان کے دہلیز پر حل ہوں گے۔ اس موقع پر محتلف اداروں نے نمائشی سٹال بھی لگائے تھے اور محکمہ صحت کے ڈاکٹروں نے فری میڈیکل کیمپ بھی لگایا جس میں 105 مریضوں کا مفت معائنہ کیا گیا اور ان میں ادویات تقسیم کئے گئے۔ 

کھلی کچہری کے دوران شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر نے کیلاش قبیلے کے معمر خواتین سے پودے لگواکر ان میں اپنائیت کا احساس پید ا کیا جس پر کیلاش خواتین نے نہایت خوشی کا اظہار کیا کہ ہماری اصل سرمایہ تو یہی درخت ہیں۔ بعد میں مقامی لوگوں میں محکمہ جنگلات کی طرف سے مفت پودے بھی تقسیم کئے گئے۔ ریسکیو 1122 کے سٹال میں عوام کو حطرات سے بچنے اور قدرتی آفات میں لوگوں کی جانیں بچانے کی تربیت دی گئی۔

عوام نے شکایت کیا کہ سردیوں میں جب برف بار ی ہوتی ہے تو ہمارے بچے سکول جانے کیلئے دوسر ی وادی جاتے ہیں جن کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران سکول کی بچیوں نے نہایت سریلی آواز میں علامہ اقبال کا قومی نغمہ پیش کیا۔ سکول کے بچوں اور بچیوں میں سکول بیگ، سٹیشنری ، خشک دودھ بھی مفت تقسیم کئے گئے۔ محکمہ جنگلات کی کمیونٹی ڈیویلپمنٹ افیسر سلیمہ افضل نے بتایا کہ ہم نے خواتین کو شجر کاری مہم میں اس لئے شریک کئے تاکہ وہ بھی ان درختوں کی فروغ اور حفاظت کیلئے کردار ادار کرے۔ 

ڈاکٹر فرح جاوید نے بتایا کہ انہوں نے فری میڈیکل کیمپ میں کافی مریضوں کا معائنہ کیا جس میں گیس کے مریض پائے جاتے ہیں اور ان لوگوں میں خوراک کی کمی کی وجہ سے بیماریاں پائے جاتے ہیں جن پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ 

بعد میں ڈپٹی کمشنر نے وادی کے واحد سکول اور سول ڈسپنسری کا بھی معائنہ کیا انہوں نے عوامی شکایت پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو سختی سے ہدایت کیا کہ وہ اس ڈسپنسری میں لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور دیگر عملہ ایک ہفتے کے اندر بھیج دے۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایت پر وہ مہینے میں دو کھلی کچہری کا انعقاد کریں گے مگر یہ سروس کھلی کچہری ہوں گے جس میں لوگوں کے ان کے دہلیز پر خدمات بھی فراہم کریں گے۔ کھلی کچہری میں تمام محکموں نے سٹال لگائے تھے اور اس میں کثیر تعداد میں مسلمان اور کیلاش لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہمانوں کو کیلاش روایات کے مطابق زرد رنگ کے چمکیلے چوغے بھی پہنائے گئے جو کیلاش روایات کے مطابق عزت کی نشان سمجھی جاتی ہے



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں