24 ستمبر، 2018

چترال میں باجوڑ اور مہمند ضلع کے مزدوروں کو نو ابجکشن سرٹیفیکٹ فراہم کرنے کیلئے پابند کئے جاتے ہیں۔ ہم پاکستانی ہیں ہمیں مزدوری کرنے دو۔ مزدوروں کی دہائی۔

چترال میں باجوڑ اور مہمند ضلع کے مزدوروں کو نو ابجکشن سرٹیفیکٹ فراہم کرنے کیلئے پابند کئے جاتے ہیں۔ ہم پاکستانی ہیں ہمیں مزدوری کرنے دو۔ مزدوروں کی دہائی۔



چترال(گل حماد فاروقی)چترال میں پتھر کاٹنے اور درختوں کو کاٹنے والے مزدوروں کا تعلق باجوڑ اور مہمند ایجنسی سے ہیں یہ لوگ ڈرل مشین کے ذریعے بڑے بڑے پتھر وایبریشن کے ذریعے توڑتے ہیں اور بڑے تناؤر درختوں کو چونسہ مشین جو پٹرول سے چلنے والا ایک آری مشین ہے اس کے ذریعے بڑے بڑے درختوں کو کاٹتے ہیں۔ 

ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے جس میں لینڈ سلائڈنگ کے ذریعے بھار ی پتھر سڑک پر گرتے ہیں یا بڑے بڑے درخت نیچے گر کر راستہ بند کرتی ہے تو یہ لوگ وہاں جاکر ڈرل مشین کے ذریعے ان بڑے پتھروں کو Vibration کی مدد سے ان میں سوراح کرکے بارود سے اڑادیتے ہیں اور پتھر چند منٹوں میں تکڑے تکڑے ہوجاتا ہے اور یوں اس کا صفایا ہوجاتا ہے اسی طرح بڑے درختوں کو بھی چونسہ مشین جو پٹرول سے چلنے والا ایک دستی آرا مشین ہے اس کے ذریعے بڑے بڑے درختوں کو چند منٹوں میں چھیر پھاڑ کر تکڑے تکڑے کرتا ہے اور استہ صاف ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ مقامی لوگ جب آبادی کرنا چاہتے ہیں اور اس کے راستے میں کوئی بھاری پتھر، یا بڑا درخت ہو اسے کاٹنے کیلئے بھی یہ مزدور کام آتے ہیں۔ 

تاہم ان مزدوروں نے شکوہ کیا کہ ان کو مقامی پولیس تنگ کرتے ہیں اور ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ NOC یعنی نو ابجکشن سرٹیفیکیٹ لائے اور جس کے پاس این او سی نہ ہو ان کو کام کرنے نہیں دیا جاتا۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ان مزدوروں نے کہا کہ وہ محب وطن پاکستانی ہیں اور وطن کیلئے جان قربان کرنے کو بھی تیا ر ہیں ان کے پاس باقاعدہ پاکستان کا قومی شناحتی کارڈ موجود ہیں مگر اس کے باجود پولیس رات کو بھی ان کے کمروں میں آکر ان سے این او سی مانگتے ہیں اور جن کے پاس این او سی نہ ہو ان کو پولیس لے جاتے ہیں اور ان کا شناحتی کارڈ روکتے ہیں اسے یا تو پھر پیسے دیکر واپس لیا جاتا ہے یا پھر کسی کا سفارش لگانا پڑتا ہے۔ 

ان مزدوروں نے کہا کہ پولیس کے اس معاصبانہ روئے کی وجہ سے وہ اکثر بے روزگار بیٹھنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ان کے بیوی بچے بھوک و پیاس سے دوچار ہوتے ہیں۔ 

ان مزدوروں نے اعلےٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ چترال پولیس کو ہدایت کرے کہ وہ ان کو بے جا تنگ نہ کرے ان کے پاس باقاعدہ شناحتی کارڈ موجود ہیں اور آئین پاکستان کے تحت وہ ملک کے کسی بھی حصے میں جاکر کام کرسکتے ہیں رہ سکتے ہیں اور آزادانہ گھوم سکتے ہیں مگر پتہ نہیں کیوں چترال آکر آئین کی یہ شق خاموش ہوجاتا ہے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں