24 ستمبر، 2018

پاکستان سے محبت کرو، ایمانداری کو اپنا شعار بناؤ، کمزور اور ضرورت مند کی مدد کرو کامیابی آپ کے قدم چھومیں گے۔ چیف جسٹس کا چترال میں خطاب

پاکستان سے محبت کرو، ایمانداری کو اپنا شعار بناؤ، کمزور اور ضرورت مند کی مدد کرو کامیابی آپ کے قدم چھومیں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا ڈسٹرکٹ بار سے خطاب میں تاثرات۔

چترال(گل حماد فاروقی) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثا ر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ محبت کرو سارے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایمانداری کو اپنا شعار بناؤ اور ہمیشہ ضرورت مند اور کمزوروں سے مدد کرو تو کامیابی آپ کے قدم چھومے گی۔ انہوں نے ان حیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کے اراکین سے خطاب کے دوران کہی۔


انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں مریضوں سے حال احوال پوچھ کر لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے۔ اور ایک بچی کو سو روپے کا نوٹ بھی دیا۔

انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رحمت اللہ افریدی سے تبادلہ حیالات کرکے ہسپتال کے بارے میں مسائل پوچھے اور ان کی حل کرنے کی ہدایت کی۔ 

بعد ازاں وہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ آئے اور فاضل جج صاحبان سے ملے۔ 

اس موقع پر چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے اراکین سے بار روم میں ملے۔ ان کو روایتی تحایف چترالی ٹوپی اور چوغہ بھی پیش کیا گیا۔ عبدا لولی خان ایڈوکیٹ نے اپنے حیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چترال سے جو دریا نکلتا ہے یہ افغانستان میں داحل ہوتا ہے جہاں کابل سے بہت کم پانی اس میں شامل ہوتا ہے مگر اس کا نام دریائے کابل رکھا گیا ہے اس کا نام دریائے چترال رکھا جائے اور چترال کے بونی اور دروش میں جوڈیشری عملہ کی کمی کی وجہ سے عوام کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر خورشید حسین مغل نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مطالبہ کیا کہ وہ چترال میں ہائی کورٹ سرکٹ بنچ میں مستقل جج تعینات کرے تاکہ لوگوں کو سوات اور پشاور نہ جانا پڑے۔ 

ڈسٹرکٹ بار کے اراکین سے اظہار حیال کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ چترال میں سروس ٹریبونل کا مسئلہ بھی بہت جلد حل کیا جائے گا اور دریائے کابل کے نام تبدیل کرنے پر بھی غور کریں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ بنچ اور بار ایک ہی جسم کے دو حصے ہیں اگر ایک حصہ دوسرے کا ساتھ نہ دے تو معذور کہلاتا ہے اور ہم خود کو معزور نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے چترالی عوام کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب وہ بزریعہ سڑک دیر سے چترال آرہے تھے تو ہر دکان کے شٹر پر پاکستان کا جھنڈا بنا ہوا دیکھا جو ملک سے محبت اور وفاداری کی علامت ہے۔

میں ہمیشہ ایک بات کرتا ہوں کہ پاکستان سے محبت کرو تو کامیاب ہوجاؤں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مل کر اس ملک کو بچانا ہے اور آج ہم اس دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ملک کو ہماری زیادہ ضرورت ہے ۔ جو ہمارا حکمران طبقہ ہے انہو ں نے پاکستان کو صدق دل سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ بھاشا اور مہمند ڈیم کے بارے میں با ت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی بقاء اور آئندہ نسل کیلئے بھی پانی کی ضرورت ہے۔ میں ہمیشہ ایک بات پر سوچتاہوں کہ اتنے سارے سیارے ہیں حلا میں مگر دنیا کی محصوص اور نرالی حیثیت کیوں ہے صرف اس لئے کہ یہاں پانی اور ہوا ہے۔ 

پانی ہماری زندہ ہونے کی دلیل ہے جسے ہم اپنے ہاتھوں سے ضائع کر رہے ہیں۔ کہیں ہم نے ان ذحائیر کو بیچ دئے اور کہیں تباہ کئے۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ہم بیرونی قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں اور ہمارا ہر بچہ 117000 روپے مقروض ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کم از کم ایک سال تک ایمانداری سے کام کرے دیکھئے حالات کیسے بدلتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ جب میں لواری ٹنل سے گزرا تو پتہ چلا کہ سرنگ تو بنا ہوا ہے مگر اسے بہت کم وقت کیلئے مسافروں کیلئے کھول دیا جاتا ہے اور لوگوں کو بلا وجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ جس پر میں نے از خود نوٹس لیا اور نیشنل ہائی اتھارٹی کے چیرمین سے پانچ دن کے اندر جواب طلب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل سے باہر دونوں جانب جو سڑک گزری ہے اس پر خچر لیکر بھی گزرنا مشکل ہے ہم بیسویں صدی میں رہ رہے ہیں مگر سڑکوں کی حالت ایسی ہیں جیسے اب بھی ہم پتھر کے زمانے سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام، رعایا کو بنیادی حقوق فراہم کرے جن میں بہترین سڑکیں بھی شامل ہیں مگر چترال میں تو آوے کا آوا بھگڑا ہوا ہے اور یہ آئین کے ارٹیکل 25 کی حلاف ورزی ہے ہم ضرور اس پر باز پرس کریں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قدرے بہتر ہے مگر اس میں مزید بہتری لانا پڑے گا۔ میں نے محکمہ صحت کے اربا ب احتیار کو سٹینڈنگ آرڈر کیا ہوا ہے کہ وہ ان ہسپتالوں میں پیرا میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹروں کو کمی کو فوراً پورا کرے وہ جس طریقے سے بھی بھی پورا کرے مگر عوام کو تکلیف نہیں ہونا چاہئے۔میں نے محکمہ صحت کو ذمہ داران کو سختی سے حکم کیا ہے کہ چھ ہفتے کے اندر تمام حالی آسامیاں پر کرے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے معاملے میں عوام کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے ان سرکاری ہسپتالوں کے ادویات کی ٹیسٹ کرنا ایک ادارے کی ذمہ داری تھی جہاں ایک سال سے بھی دوائی پڑی تھی اور اس کا ٹیسٹ تک نہیں کیا گیا تھا میں نے ان کو سختی سے حکم دیکر پابند کیا کہ وہ ایک مہینے کے اندر یہ ٹیسٹ مکمل کرکے سپریم کو رپورٹ بھیجا کرے۔ 

بار کے بارے میں تفصیل دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بار تو میر ا اپنا گھر ہے اور ان کے مسائل میں ترجیحی بنیادوں پر حل کرتا ہوں۔ انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو فون کرکے بتایا کہ وہ فی الحال چترال بار کے ایک رکن کے حیثیت سے گزارش کرتا ہے کہ چترال میں ججوں کی کمی پورا کرے اور بار کا مسئلہ فوری حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے ان کو یقین دہانی کرای ہے کہ وہ سینر جج قلندر خان ہائی کورٹ سرکٹ برانچ کیلئے بہت جلد آئے گا اور باقی کمی بھی چار ہفتوں کے اندر پورا کی جائے گی۔

انہوں نے بار ایسوسی ایشن کیلئے پیشکش کی کہ وہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈیمی میں چترال کے وکلاء کیلئے جوڈیشل کورس کا اہتمام کرے گا۔ 

مقامی صحافی گل حماد فاروقی نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ چترال ایک پسماندہ ضلع ہے مگر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے PTCL بلوں میں سروس ٹیکس لگایا ہے جو زیادتی ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اسے تحریری طور پر درخواست دے تاکہ وہ پی ٹی سی ایل حکام سے بھی جواب طلب کرسکے۔ 

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر خورشید حسین مغل نے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا کہ وہ سپریم کورٹ کا واحد چیف جسٹس ہے جو اتنی طویل سفر کو گاڑی میں طے کرتے ہوئے چترال آئے ان کی یہ خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں