24 ستمبر، 2018

چترال: گھوڑوں پر ہو تو بادشاہوں کا کھیل اور جب گدھوں پرکھیلا جاتا ہے تو اسے کن لوگوں کا کھیل کہیں گے: ضرور پڑھیں

 

پولو کو بادشاہوں کا کھیل یا کھیلوں کا بادشا ہ سمجھا جاتا ہے جس کیلئے شاہی سواری یعنی گھوڑا استعمال ہوتا ہے مگر چترال کے شاہی مزاج بادشاہوں کا یہ کھیل گدھوں پر بھی کھیلتے ہیں جو نہایت دلچسپ ہوتا ہے۔



چترال(گل حماد فاروقی) پولو کو بادشاہوں کا کھیل یا کھیلوں کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے اور بادشاہوں کا یہ کھیل شاہی سواری یعنی گھوڑے ہی پر کھیلا جاتا ہے مگر جب یہ شاہی سواری آسانی سے دستیاب نہ ہو تو چترال کے شاہی مزاج لوگ بادشاہوں کا یہ کھیل گدھوں پر بھی کھیلتے ہیں۔ 

ویسے تو چترال کے ہر حصے میں پولو کا میچ نہایت شوق سے کھیلا اور دیکھا جاتا ہے مگر چترال کا آحری حصہ جو تاجکستان کے سرحد پر واقع ہے بروغل میں گدھو ں پر کھیلے جانے والے پولو میچ کا مزہ کچھ اور ہے۔

پولو میچ میں عام طور پر گھوڑے استعمال ہوتے ہیں جو نہایت تیز دھوڑتے ہیں مگر گدھے ان کے نسبت نہایت سست رفتاری سے چلتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کھلاڑی کو محالف ٹیم کے بال کو قابو کرنے یا اس پر سٹک مارنے کیلئے قدرے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

وادی بروغل میں گدھوں پر کھیلے جانے والا پولو کا یہ میچ نہایت دلچسپ ہوتا ہے اس میں چھ ، چھ کھلاڑی ہوتے ہیں اور یہ فری سٹائل میچ ہے جس میں محالف کھلاڑی کا گدھا روکنا، اس کا بال پکڑنا یا اسے گو ل کرنے سے روکنا سب شامل ہے۔ اگر کسی وجہ سے کوئی کھلاڑی یا اس کی سواری زحمی ہوجائے یا کھیل کے قابل نہ رہے تو محالف ٹیم سے بھی ایک کھلاڑی کم کیا جاتا ہے۔مگر سب سے دلچسپ چیز کھیل کے دوران وہ محصوص آوازیں ہیں جس کے ذریعے گدھے کو تیز دوڑنے پر اکسایا جاتا ہے۔




وادی بروغل تاجکستان سرحد کے قریب واقع ہے جہاں Entertainment کے کوئی ذرائع نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ خود کو مشعول رکھنے کیلئے محتلف قسم کے کھیل کھیلتے ہیں اور ثقافتی پروگرام بھی کراتے ہیں۔
اگر حکومتی ادارے یا سیاحت کو ترقی دینے والے حکام بروغل میں ان دلچسپ کھیلوں کو فروغ دے اور وہاں جانے تک سڑکیں بحال کرے تو یہ نہ صرف سیاحت کا ایک بہت بڑا مرکز قرار پائے گا بلکہ دنیا بھر سے سیاح یہاں کا رح کریں گے۔ عوام یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر سال شندور پولو میلہ پر جو چار کروڑ سے زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے جو صرف ایک محصوص طبقے کیلئے محدود ہوتی ہے اور عام عوام اس سے محروم رہتے ہیں اگر ایک سال اس فنڈ کو شندو ر ضائع نہ کرکے اس سے وہاں جانے والی سڑکوں کی مرمت کرے تو اگلے سال دس گنا زیادہ سیاح آئیں گے اور ملک کی معیشت پر یقینی طور پر مثبت اثرات ڈالیں گے۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں