3 اکتوبر، 2018

تھر میں مزید 3 بچے غذائی قلت کی وجہ سے دم توڑ گئے، ستمبر 2018 میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی

 

تھر میں مزید 3 بچے غذائی قلت کی وجہ سے دم توڑ گئے، ستمبر 2018 میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی



کراچی (ویب ڈیسک)  ایوانوں میں تبدیلی آئی لیکن شہروں قصبوں میں کوئی تبدیلی تاحال نہ آسکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق  تھر کے غریب عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکی، گزشتہ چوبیس گھنٹے میں مزید 3 نومولود دم توڑ گئے، صرف  ستمبر 2018 میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی، صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے تھر میں بڑھتی ہوئی اموات کی روک تھام کے لئے کسی قسم کے موثر اقدامات نظر نہیں آرہے ، پاکستان کے پسماندہ ترین علاقے میں سال 2018 ء میں 476 معصوم بچے اپنی جانوں سے محروم ہوگئے سندھ کی وزارت صحت کے مطابق یہ اموات سول ہسپتال مٹھی میں ہوئیں واضح رہے کہ تھر پارکرمیں معصوم بچوں کی اموات کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے اور صوبائی اور وفاقی حکومت نے اب تک صرف بیان بازی کے علاوہ کوئی موثر اقدامات نہیں اُٹھائے ہیں ، محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق تھر میں ہر سال پندرہ سو سے زائد بچے غذائی قلت کی وجہ سے موت کا شکار ہورہے ہیں جبکہ اس علاقے میں وائرل انفیکشن اور طبی سہولیات کا نہ ہونا بھی ان اموات کی اہم وجہ بتایاجاتاہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں