30 اکتوبر، 2018

ناقابل یقین لیکن سچ : 40 سالہ خاتوں نے 44 بچوں کو جنم دیا، چھ مرتبہ جڑواں بچے پیدا ہوئے

ناقابل یقین لیکن سچ : 40 سالہ خاتوں نے 44 بچوں کو جنم دیا، چھ مرتبہ جڑواں بچے پیدا ہوئے

یوگینڈا (ٹائمز آف چترال مانیٹرنگ ڈیسک) مہنگائی کے اس دور میں لوگ عام طور پر بچے دو ہی اچھے پر کاربند رہتے ہیں۔ کم بچے خوشحال گھرانہ کے سلوگن پر بھی لوگ عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ تاکہ بچوں کو اپنے محدود وسائل سے اچھی تعلیم اور اچھا مستقبل دے سکیں۔ لیکن دیہات میں اس کا الٹ ہی ہوتا ہے، کھیتوں اور کھیتی باڑی کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی غرض اور مولویوں کے لیکچر کے اثرات سے لوگ خاندانی منصوبہ بندی کو خلاف اسلام تصور کرتے ہیں اور درجنوں بچے پیدا کرتے ہیں۔ 

افریقی ملک یوگانڈا کے علاقے کبمبیری کی رہائشی ایک خاتون ، جس کی عمر 40 برس ہے لیکن اب تک وہ 44 بچوں کو جنم دے چکی ہیں جن میں سے 38 بچے اب تک زندہ ہیں۔ مریم نبٹازی اپنی فرٹیلیٹی کی وجہ ان دنوں میڈیا کی سرخیوں کی زینت بن چکی ہیں۔ مریم کا تعلق یوگنڈا کے ایک گاؤں کبمبیری سے ہے۔ انہیں مقامی زبان میں نالونگو مزالا بانا بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے چار بچوں کو جنم دینے والی جڑواں ماں۔ پہلی مرتبہ وہ 13 سال کی عمر میں ماں بنیں اور لگاتار 40 برس کی عمر تک ہر سال حاملہ ہوتی رہی ہیں۔ 

چالیس سال کے اس عرصے میں چھ مرتبہ جڑواں بچوں کو جنم دیا، چار مرتبہ ان کے بطن سے ایک ساتھ تین تین بچوں نے دنیا میں آنکھ کھولی جبکہ تین مرتبہ انہوں نے بہ یک وقت چار بچوں کو جنم دیا۔ اس طرح بہت کم مرتبہ انہوں نے ایک وقت میں ایک بچے کو جنم دیا۔ مریم اب اکیلی ماں کی حیثیت سے ان کی پرورش کررہی ہیں اور ان کے لیے سارے بچوں کو کھلانا اور پرورش کرنا بہت مشکل کام ہے۔ تاہم ان کی زندگی کی کہانی بہت عجیب وغریب اورافسوسناک بھی ہے۔

مریم کی شادی اُس وقت ایک 28 سالہ شخص سے ہوئی جب وہ خود 12 برس کی تھیں۔ پھر 13 برس کی عمر میں انہوں نے دو بچوں کو جنم دیا۔ دو سال بعد ایک ساتھ 3 بچوں کو جنم دیا اور اس کے دو برس بعد چار بچوں کو ایک ساتھ جنم دیا ۔ مریم کے والد کے بھی 45 بچے تھے جو کئی خواتین سے پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح 23 سال کی عمر تک مریم 25 بچوں کی ماں بن چکی تھی۔ اس بار وہ دوبارہ ہسپتال گئیں تاکہ مزید بچوں کی پیدائش کو روکا جاسکے۔ اس بار بھی ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں جو خواتین کو حاملہ ہونے سے روک سکے۔ اس کے بعد آخری مرتبہ انہوں نے دسمبر 2016 میں اپنے 44 ویں بچے کو جنم دیا۔ 

مریم کا شوہر نشے کا عادی تھا اور وہ مریم پر تشدد بھی کرتا تھا۔ مریم کو اپنے بچوں کےلیے روزانہ 10 کلو آٹا، چار کلو شکراور صابن کی تین ٹکیاں درکار ہوتی ہیں۔ حال ہی میں مریم کےلیے انٹرنیٹ پر چندے کی مہم چلائی گئی تو اس میں 10 ہزار ڈالر کی رقم جمع ہوئی جس کے بعد مریم اب قدرے پرسکون انداز میں اپنے بچوں کی کفالت کررہی ہیں۔ اب وہ تنہا 38 بچوں کی پرورش کررہی ہیں کیونکہ ان کے شوہر کبھی کبھار ہی گھر آتے ہیں اوربرسوں سے بچوں نے اپنے والد کو نہیں دیکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مریم کے شوہر کی کئی بیویاں ہیں اور وہ ان کے پاس خوش ہے۔ بسا اوقات وہ سال میں ایک مرتبہ اپنے شوہر کی صورت دیکھ پاتی ہیں۔

مریم کی سگی ماں نہیں تھی، سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی، مریم کے مطابق ایک مرتبہ اس کی سوتیلی ماں نے اس کے 4 بچوں کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ اور 12 سال کی کم عمری میں شادی کی اور وہ بھی 27 سالہ شخص سے۔ جو کہ شرابی تھا۔ دوںوں کے مظالم سہنے کے باوجود 44 بچوں کو جنم دینا اور ان کی پروش کسی عام انسان کا کام نہیں۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں