1 اکتوبر، 2018

چترال : پیسکو نے گھریلو صارف کو ایک لاکھ تیس ہزارکا بل بھیج، دیکھ کر صارف کے ہوش اڑگئے، میٹر ریڈر پورا سال گھر بیٹھے بل بھیجتا رہا

 

پیسکو نے گھریلو صارف کو ایک لاکھ تیس ہزارکا بل بھیج، دیکھ  کر صارف کے ہوش اڑگئے، میٹر ریڈر پورا سال گھر بیٹھے بل بھیجتا رہا جب پشاور سے ٹیم آکر پورا بل بھیج دیا تو لوگوں کی برداشت سے باہر بل بھیجا۔


چترال(گل حماد فاروقی)پشاور الیکٹریسٹی سپلائی کمپنی (پیسکو) کے عملہ نے چترال کے گھریلوں صارفین کو لاکھوں روپے کا بل بھیج کر لوگوں کا نیند حرام کردیا۔علاقہ سینگور کے شاہ میراندہ کے ایک غریب عورت نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ وہ ہر ماہ باقاعدگی سے بل جمع کرتی رہی مگر اس ماہ ان کو ایک مہینے کا 1293 یونٹ بھیجے جس کا بل 22923 روپے آیا خاتون کا کہنا ہے کہ اس کا بوڑھا شوہر بھی کچھ عرصہ پہلے پہاڑ سے گر کر شدید زحمی ہوا تھا اور اب بستر پر پڑا ہے وہ اتنی زیادہ بل کیسے ادا کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ پورے سال پیسکو کا کوئی میٹر ریڈر نہیں آیا اور وہ گھر بیٹھ کر بل بھیجتا رہا اب جب پشاور سے چیکنگ والے آئے تو انہوں نے یکمشت بل بھیج دیا جو ہماری بس سے باہر ہے اس میں ہمارا کیا قصور ہے ہم تو ہر ماہ باقاعدگی سے بل جمع کرتے آرہے ہیں۔

شاہ میراندہ کے ایک اور صارف صلاح الدین کو ایک ماہ کا 4564 یونٹ کا بل آیا ہے جس کا رقم 130000 روپے بنتا ہے ۔ صلاح الدین نے ہمار ے نمائندے کو بتایا کہ پچھلے سال پیسکو کے ایک اہلکار نے مجھ سے بارہ ہزار روپے لئے کہ تمھارا بل صحیح کرواں گا اسی ماہ صرف ڈیڑھ سو روپے بل آیا مگر اگلے ماہ ساٹ ہزار روپے کا بل آیا۔ اب کے بار مجھے ایک لاکھ تیس ہزار روپے کا بل آیا جو سراسر ناانصافی ہے ایک مہینے میں ساڑھے چار ہزار یونٹ کیسے خرچ ہوئے۔

اسی گاؤں کے ایک بیوہ خاتون جو ایک کچے مکان میں رہتی ہے اور اکثر بیمار رہتی ہے اس کے میٹر میں ریڈنگ کم ہے مگر میٹر ریڈر بادشاہ نے اسے بھی اندھا دند بل بھیجا ہے بیوہ سعید کمال کہتی ہے کہ ان کے گھر میں صرف ایک انرجی سیو ر بلب لگا ہے اور میٹر ریڈ ر کبھی آیا بھی نہیں ہے پچھلے سال مجھے چار ہزار روپے کا بل بھیجا۔

طاہر زمان ایک اور صارف ہے وہ بھی پیسکو کا ستایا ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں چالیس ہزار سے لیکر ایک لاکھ روپے تک بل بھیجتے ہیں ریڈنگ کے مطابق واپڈا ہمارے قرض دار ہے جبکہ وہ میٹر چیک نہیں کرتے اور میٹر ریڈر اور پیسکو کا عملہ اپنا کاروبار کرتا ہے مگر تنخواہ پیسکو سے لیتے ہیں اور کبھی اپنی ڈیوٹی نہیں کرتے۔ 

محمد عیسیٰ گولدور گاؤں کا رہنے والا ہے ان کا کہنا ہے کہ نہ کوئی بندہ آتا ہے نہ میٹر ریڈر میٹر کو چیک کرتا ہے بس گھر بیٹھے بغیر دیکھے بل بھیجتا ہے ان متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر واپڈا، وفاقی سیکرٹری ، چیرمین واپڈا اور چیف ایگزیکٹیو پیسکو سے اپیل کی ہے کہ وہ ان اہلکاروں کے حلاف کاروائی کرے جو گھر بیٹھے لوگوں کو بل بھیجتے ہیں اور ان کی ڈیوٹی کو بھی یقینی بنائے اور جن متاثرین کو ہزاروں یونٹ کا بل ایک ماہ میں بھیجا ہے ان کو سستے نرح پر اسی ریٹ بل جاری کیا جائے جو عام صارفین کو پچاس سے سو نونٹ کا بل آتا ہے۔

ان صارفین نے کہا کہ چترال میں بجلی چوری کا تصور بھی نہیں ہے ورنہ اگر یہ لوگ بجلی چوری کرتے تو دیگر اضلاع کی طرح پیسکو اور واپڈا کا عملہ کو کچھ رقم دیکر وہ خود آکر ان کی میٹر کو ریورس کرتے مگر یہ شریف لوگ ہیں اور بجلی چوری نہیں کرتے اس کے باوجود پیسکو کا عملہ ان کی شرافت سے غلط فائدہ اٹھارہے ہیں جو سراسر زیادتی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں