15 اکتوبر، 2018

اشو فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیمنیار کا انعقاد، چترال میں قدرتی آفات کے نقصانات کو کم سے کم کرنے غور خوض کیا گیا

عوام پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے طریقے اپنائے کہ ان حادثات کے دوران نقصان کا شرح کم سے کم ہو۔



چترال(گل حماد فاروقی) ہم قدرتی آفات کو نہیں روک سکتے مگر ان کی نقصانات کو بہتر حکمت عملی کے ذریعے کم سے کم کرسکتے ہیں ان حیالات کا اظہار ماہرین نے قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے کا عالمی دن منانے کے موقع پر کی۔ اس سلسلے میں ہاشو فاؤنڈیشن نے اپنے مین آفس بلچ میں ایک سیمنار کا اہتمام کیا اس موقع پر منیجر اے کے آر ایس پی سجاد احمد مہمان حصوصی تھے جبکہ رحمت غفور بیگ چئیرمین سٹیزن کمیونٹی نیٹ ورک نے صدارت کی۔ 

سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں تیرہ اکتوبر کو Disater Reduction کے عالمی دن کے طو ر پر مناتے ہیں۔ اس دن کا آغاز اقوامی متحدہ نے 1998 میں کیا تھا کیونکہ ہر سال دنیا کے محتلف ممالک میں قدرتی آفات آتے ہیں جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور اربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوتا ہے اس دن منانے کا بنیادی مقصد عوام میں آگاہی اور شعور پیدا کرنا ہے کہ وہ ایسے طریقے اپنائے کہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں مالی او ر جانی نقصان کا شرح کم سے کم ہو۔ 

منیجر خالد خان نے اپنے ادارے کے اعراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہاشو فاوئنڈیشن 24 دیہات میں کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر ریسک منیجمنٹ پر کام کرتا ہے جس میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو تربیت دینا ہے کہ وہ قدرتی آفت کے صورت میں اپنا، اپنے اہل و عیال اور اپنے علاقے میں دوسرے لوگوں کی جانیں اور مال کیسے بچائے۔ 

پروفیسر اجمل سعید جو ماحولیاتی سائنس پڑھاتا ہے نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو شروع ہی سے سلیبس میں ماحولیات پر مضامین شامل کرنا چاہئے او ر ان کو اس سلسلے میں ابتداء ہی سے پڑھانا چاہئے کہ ماحولیات کیا ہے اور قدرتی آفات میں حطرات سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔ ظفر احمد نے ریسکیو 1122 کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ ہر قسم کی ہنگامی صورت حال میں پیش پیس ہے اور ان کو موبائل یا ٹیلیفون سے ایک کال کرے تو ان کا عملہ حاظر ہوگا مگر بغیر ضرورت کے ان کے تنگ کیا جائے اور ادارے کے اراکین کا قیمتی وقت ضائع نہ کی جائے۔ 

رحمت غفور بیگ نے اسلامی نقطہ نظر سے قدرتی آفات پر روشنی ڈالی کہ جتنے بھی نقصانات ہوتے ہیں وہ انسان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور ہمیں چاہئے کہ اپنے پالیسی ایسے بنائے تاکہ اس میں ہم ماحول کو نقصان سے بچائے۔ سجاد احمد نے کہا کہ ہمارے پاس جو بھی علم ہے اور ہم دوسرو ں کو بچانے کے جتنے بھی مہارت جانتے ہیں ان کو دوسروں کو منتقل کرنا چاہئے۔ 

سیمنار کے دوران عام بحث او ر سوال وجواب کا بھی نشست ہوا۔ ایک مقامی صحافی گل حماد فاروقی نے نقطہ اٹھایا کہ چترال میں لو گ کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے لکڑیاں جلاتے ہیں جس سے جنگلات حتم ہوتے ہیں جو سیلابوں کا باعث بنتا ہے اگر حکومت چترال کے لوگوں کو درگئی، ملاکنڈ اور ہنزہ کے طرز پر مفت یا سستی بجلی دے تو لوگ بجلی کے ہیٹر کو استعمال کریں گے اور جنگلات پر بوجھ کم ہوگا۔ 

سجاد احمد او ر نظام علی نے کہا کہ آگاہی سے ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا بلکہ ہمیں Sensitization پر زور دینا ہوگا اگر ہمیں کسی چیز کے نقصان یا حطرے کا ادراک ہوگا تو ہم اس سے خود کو بچانے کی تدابیر احتیار کریں گے۔ 

نگاہ حسین ڈپٹی ایریا کوآرڈینیٹر ACTED نے کہا کہ ہم سب نے مل کر قدرتی آفات سے بچنے اور اس کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ چترال ایک ریڈ زون ہے یہاں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے تو ہم اپنے عمارات ایسے طرز پر بنائے جس میں زلزلہ کی صورت میں نقصان کا شرح کم سے کم ہو۔ 

سیمنار میں کثیر تعداد میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں