16 اکتوبر، 2018

چترال کی خوبصورت وادی کیلاش کا تہوار ’پھولڑ تہوار‘ ۔ کیا ہوتا ہے اس تہوار میں جاننے کے لئے پڑھیں

 


چترال کے وادی بریر میں کیلاش قبیلے کے لوگ پھولڑ تہوار منارہے ہیں ۔ اس تہوار میں پھولوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں ان بچیو ں کے سروں پر رکھا جاتا ہے جن کی عمریں دس سال ہوجاتی ہے۔



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے پہاڑوں کے دامن میں رہنے والے کیلاش قبیلے کے لوگ اپنی محصوص ثقافت، رسم و رواج، مذہبی تہوار اور نرالی لبا س کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

کیلاش قبیلے کے لوگ سال میں دو بڑوں اور دو چھوٹے تہوارو ں کے علاوہ ایک حاص تہوار بھی مناتے ہیں جنہیں پھولڑ تہوار کہا جاتا ہے۔ پھولڑ یا پھول تہوا ر صرف وادی بریر میں منایا جاتا ہے باقی دو وادیوں یعنی رمبور اور بمبوریت میں اسے نہیں منایا جاتا۔ 

اس تہوار میں پھولوں سے ایک حاص قسم کی ٹوپیاں بنائی جاتی ہیں جو ان بچیوں کے سروں پر رکھا جاتا ہے جن کی عمریں دس اور گیارہ سال تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس تہوار میں وادی کے لوگ اخروٹ اور انگور بھی درختوں سے اتا ر کر گھروں میں سردیوں کیلئے ذحیرہ کرتے ہیں۔ 

حسب معمول اس سال بھی پھولڑ کی تہوار وادی بریر میں نہایت زور و شور سے منائی گئی جس میں پھول جیسے بچیوں کے سروں پر پھولوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں رکھ کر پھول تہوار کی مزے کو دوبالا کیا گیا۔ جبکہ کیلاش خواتین ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ ڈال کر قدم سے قدم ملاکر گول دائرے میں رقص پیش کرتی ہیں جبکہ مرد حضرات ڈھولک بجاتے ہیں۔ تہوار کے دوران کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جن کو اپنی زبان میں قاضی کہا جاتا ہے جو مرد اور خواتین پر مشتمل ہوتے ہیں وہ مذہبی گیت گاتے ہیں جب کہ ادھیڑ عمر کی عورتیں ان کے سر پر ٹوپی میں پچاس، سو، پانچ سو او ر ایک ہزار روپے کا نوٹ رکھ کر ا ن کی ٹوپیوں کو نوٹوں سے سجاتے ہیں جو عزت کی نشانی سمجھی جاتی ہیں چند کیلاش خواتین ان گانے والے قاضیوں کے جیب میں بھی پیسے رکھ دیتی ہیں۔

تہوار کے دوران مرک اور عورتیں اکٹھے بھی رقص پیش کرتے ہیں۔ اس دوران کیلاش کی بوڑھیاں ان بچیوں کو رقص کے میدان سے باہر ایک جگہہ بٹھاتے ہیں اور ان کے سروں پر پھولوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں رکھتے ہیں اور ان کو روایتی پکوان بھی پیش کی جاتی ہے اس تہوار میں ان بچیوں کو زرد رنگ کے زرق برق کپڑے سے بنے ہوئے گاو ن بھی پہنایا جاتا ہے جو عام طور پر اس چمکیلے کپڑے سے بنے ہوئے یہ چوغہ صر ف کیلاش کے مذہبی رہنماؤں یعنی قاضیوں کو پہنایا جاتا ہے۔ مگر اس تہوار میں یہ چوغہ صرف ان بچیوں کو پہنا یا جاتا ہے اور بعد میں ان کو رقص گاہ لے جاکر ان کو رقص سکھایا جاتا ہے۔

یہ بچیاں کچھ دیر تک اس میدان میں رقص کرتی ہیں اس کے بعد ایک فرد آکر ان کی ٹوپی سر سے اتار کر کسی کو پھینک دیتا ہے جسے اٹھا کر وہ اس بڑے میدان میں جاتا ہے جو پہاڑی کے قریب اونچائی پر واقع ہے اور یہ سب لوگ اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں چلے جاتے ہیں جہاں مرد اور خواتین اکھٹے رقص پیش کرتے ہیں اس رقص میں اسلام آباد سے آنے والے دو سیاح لڑکیوں نے بھی بھر پور حصہ لیا۔ یہ چھوٹے پھول جیسے بچیاں یہاں بھی رقص پیش کرتی ہیں جن کو ان کے بڑے سکھاتی ہیں 

رنگ اور رقص کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جبکہ مرد ڈھولک بجاتے ہیں عصر کے بعد ایک اور مرد آکر ان بچیوں سے یہ ٹوپی لیکر پہاڑ کی طرف دوڑتا ہے اور باقی ٹوپیاں بھی ایک ایک کرکے اوپر پھینک دیا جاتا ہے

پھول تہوا ر کو چین، سکاٹ لینڈ ، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ کئی ممالک سے سیاح آئے تھے۔چند مقامی سیاحوں نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ انہوں نے اتنی پر رونق تہوار پہلی بار دیکھا ہے مگر وادی بریر کا راستہ نہایت حراب ہے اگر اس وادی تک جانے والا سڑک پحتہ ک یا جائے تو یہ سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ اس رنگارنگ تقریب میں کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے شرکت کرے اس سے محظوظ ہوئے۔









کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں