18 اکتوبر، 2018

سائنسدان ثرمبارک کے سارے دعوے جھوٹ نکلے، تھر کو سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا، آڈٹ کا حکم

 سائنسدان ثرمبارک کے سارے دعوے جھوٹ نکلے، تھر کو سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا، آڈٹ کا حکم



اسلام آباد (مانیڑنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے تھرکول گیسی فیکشن منصوبہ کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک نے پروجیکٹ کے حوالے سے غلط بیانی کی۔

یاد رہے سال 2011 میں ڈاکٹر ثمر مبارک نے دعویٰ کیا تھا کہ  تین سے 4 سینٹ فی یونٹ کی بجلی بنے گی جبکہ کوسٹ  ایک ڈالر فی کلو واٹ خرچے  پر بجلی پیدا ہوگی ۔ اور یہ سستی ترین کیپیٹل انوسٹمنٹ ہے۔ اور یہ سب سے سستی بجلی ہوگی۔ہم  وہاں 500 سال تک 50 ہزار میگاواٹ بجلی سالانہ بنانا سکتے ہیں۔ 

سپریم کورٹ میں تھرکول منصوبہ کیس کی سماعت ہوئی۔  سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو تھر کول گیسی فیکشن منصوبہ کا فرانزک آڈٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آڈیٹر جنرل جنگی بنیادوں پر آڈٹ مکمل کریں، پیشرفت سے ہر پندرہ دن بعد عدالت کو آگاہ کیا جائے، عدالتی معاونین کی رپورٹ کے مطابق خزانہ کو اربوں کا نقصان ہوا، نیب انکوائری کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے۔

چیف جسٹس نے عدالتی معاونین کی رپورٹ پر ڈاکٹر ثمر مبارک، وفاق اور سندھ حکومت سے 15 دن میں جواب طلب کرلیا۔ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو منصوبے کی مشینری اور دیگر سامان تحویل میں لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مشینری، گاڑیوں اور دیگر سامان کی تصاویر بھی بنائی جائیں، جبکہ ملازمین کو ہر صورت تنخواہیں دلوائی جائیں۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ بادی النظر میں زیرزمین گیسی فیکشن منصوبہ قابل عمل نہیں۔ عدالتی معاون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ منصوبے سے 30 سال تک 10 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ منصوبے سے سستی بجلی پیدا ہونے کے دعوے کیے گئے، اس کام کے لیے اربوں روپے پتوں کی طرح بانٹے گئے، جو چار ارب روپے ضائع ہوئے اسکا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ڈاکٹر ثمر مبارک مند رقم واپس کریں گے یا کوئی اور؟، خود کو بڑا سائنسدان کہتے تھے اتنا پیسہ منصوبہ پر لگوا دیا، ڈاکٹر ثمر مبارک نے منصوبے کے حوالے سے غلط بیانی کی، غلط رہنمائی پر یہ منصوبہ شروع کیا گیا، کیا اس طرح کے کام کر کے پیسہ ضائع کردیں، کسی کو جوابدہ ٹھہرانا پڑے گا۔

عدالتی معاون سلمان اکرم نے کہا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ نے مزید فنڈنگ نہ دینے اور سندھ حکومت کو منصوبہ نجی شعبے کو دینے کی سفارش کی ہے، تھرکول کے اکاوئنٹس کا آڈٹ کرایا جائے، آڈٹ میں منصوبے کی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جائے۔ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں