26 اکتوبر، 2018

چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں دو روزہ فری آئی کیمپ میں سینکڑوں مریضوں کی آنکھوں کا مفت معائنہ کیا گیا دو سو مریضوں کی آنکھوں کا آپریشن، ادویات اور عینک فراہم کئے گئے

 

چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں دو روزہ فری آئی کیمپ میں سینکڑوں مریضوں کی آنکھوں کا مفت معائنہ کیا گیا دو سو مریضوں کی آنکھوں کا آپریشن،  ادویات اور عینک فراہم کئے گئے

چترال ہسپتال میں دو سالوں سے آنکھوں کا ڈاکٹر نہیں ہے۔

چترال (گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں دو روزہ فری آئی کیمپ کا اہتمام ہوا جس میں ایک فلاحی ادارے (امہ ویلفئیر ٹرسٹ) نے حیا ت آباد میڈیکل کمپلکس کے سینئر ڈاکٹروں کو چترال لاکر مریضوں کا مفت معائنہ کیا ، آنکھوں کا اپریشن کئے اور ان کو مفت ادویات اور نظر اور دھوپ کی عینک بھی مفت فراہم کئے۔

ڈاکٹر اسرار جو HMC پشاور کے آئی یونٹ میں رجسٹرار ہے انہوں نے ہمار 
نمائندے کو کہا کہ وہ دن چترال کے ہسپتال میں فری آئی کیمپ لگارہے ہیں جس میں آپریشن بھی ہوگا اور دو دن بالائی چترال میں جائیں گے جہاں د و سے تین دن فری میڈیکل کیمپ لگائیں گے انہوں نے کہا کہ چترال میں سفید موتیے کے مریض بہت دیکھے گئے اور یہا ں اس کیمپ میں جتنے بھی مریض آئے ان کی آنکھوں میں سفید موتیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ یہ علاوہ اونچائی پر واقع ہے جہاں دھوپ بھی تیز لگتا ہے، مٹی گرد و غبار بھی آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لوگوں کو چائے کہ قدرت کے اس انمول تحفے یعنی آنکھوں کا حفاظت کرے جس کیلئے دھوپ میں جاتے ہوئے کالے رنگ کے عینک لگائے، اور مٹی و گرد گرنے کی صورت میں آنکھوں کو صاف پانی سے دھوئے اور خوراک میں گاجر و سبزیاں ، پھل استعمال کرے جس سے نظر تیز ہوجاتی ہے۔

ڈاکٹر افشاں نے کہا کہ خواتین کی آنکھوں میں زیادہ تر بیماری پائی گئی جس کی بنیادی وجہ باورچی حانہ میں کام کرتے ہوئے آنکھوں میں دھواں جانے سے حراب ہوتی ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین کو چاہئے کہ کھانا پکاتے وقت آنکھوں کو دھویں (سموک) سے بچائے اور آنکھوں کو صاف رکھا کرے۔ ایک مقامی شحص اعجاز احمد جس نے اپنے ضعیف والد کو اس فری آئی کیمپ میں لایا تھا اور اس کا آپریشن ہوا اس نے بتایا کہ چترال میں آنکھو ں کے مریض ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں مگر یہاں پچھلے دو سالو ں سے آئی سپیشلسٹ نہیں ہے ڈاکٹر محبوب حسین ریٹائرڈ ہوا اس کے بعد کوئی دوسرا ڈاکٹر نہی آیا انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ چترال ہسپتال میں فوری طور پر آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر بھیجے تاکہ عوام کو علاج کیلئے پشاور جانا نہ پڑے۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں