8 اکتوبر، 2018

چترال کے آفتادہ علاقے بروغل میں یاک پولو نہایت دلچسپ کھیل۔ یہ کھیل ہر سال ہزاروں سیاحوں کو وادی کھینچ لاتا ہے

 

چترال کے انتہائی دور آفتادہ علاقے بروغل میں یاک پولو نہایت دلچسپ کھیل۔ اس کھیل کو دیکھنے کیلئے ہر سال ہزاروں سیاح اس وادی کا رح کرتے ہیں۔

چترال(گل حماد فاروقی) بادشاہوں کا کھیل یعنی پولو گھوڑوں، گدھوں پر عام طور اور ہر جگہہ کھیلا جاسکتا ہے مگر یاک یعنی جنگلی بیل پر پولو کا مزہ کچھ اور ہے اور یہ صرف وادی بروغل میں کھیلا جاتا ہے جو سطح سمندر سے 12500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ 

یاک پولو میں بھی حسب معمو ل چھ ، چھ کھلاڑی ہوتے ہیں مگر یہ سواری اتنی تیز نہیں ہوتی جتنا گھوڑا تیز دوڑ کر بال کو قابو کرتا ہے۔

داد خدا ایک طالب علم ہے مگر شوقیہ طور پر یاک پولو بھی کھیلتا ہے اس نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ایک تو یاک پر پولو کھیلنا نہایت مشکل کھیل ہے کیونکہ یاک میں گھوڑے کی طرح قابوکرنے کیلئے وہ رسی نہیں ہوتے جسے ہم جلب کہتے ہیں بلکہ یاک کو صرف ایک ہی رسی سے پکڑا اور ہانکا جاتا ہے جبکہ گھوڑے کو قابو کرنے کیلئے دونوں جانب چمڑے سے بنے ہوئے پٹے ہوتے ہیں جسے سوار اپنی مرضی سے دائیں بائیں مڑواسکتا ہے اور جہاں بال پڑتا ہے کھلاڑی گھوڑے کو اسی جگہہ دوڑاکر بال پر سٹیک مارتا ہے مگر یاک کا معاملہ کچھ اور ہے ایک تو یہ بہت بھاری جانور ہے دوسری یہ تیز نہیں دوڑسکتا اور تیسرا یہ گھوڑے کی طرح اتنا تربیت یافتہ نہیں ہوتا کیونکہ جو اصل گھوڑے ہیں جن کی تربیت کی جاتی ہے وہ مالک کا بہت مدد کرتا ہے۔

یاک پولو کے دوران مقامی فن کار موسیقی بجاتے ہیں اور اس میں بانسری اور دف بہت مشہور ہے۔ کھلاڑی کوشش کرتا ہے کہ محالف ٹیم کا بال قابو کرے اور اسے اس جگہہ تک لے جائے جہاں دو لکڑیوں کے درمیان سے بال گزار کر گول ہوجاتا ہے۔



مقامی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ جس طرح پولو کو اہمیت حاصل ہے اور اس کو حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہے اگر یاک پولو کو بھی حکومت تقویت دے اس پر توجہ دے تو یہ کھیل اس علاقے کی تقدیر بدل دے گا کیونکہ یاک ہر جگہہ ہوتا نہیں ہے یہ صرف وادی بروغل میں پائے جاتے ہیں کیونکہ یاک نہایت گرم مزاج جانور ہیں اور زیادہ تر برف پوش میدان میں رہتا ہے۔ 

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پولو کے ساتھ یاک پولو کو بھی ترقی دینے کیلئے اقدامات اٹھائے تو یہ دلچسپ کھیل اس پسماندہ ترین وادی سے غربت کے حاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں