8 اکتوبر، 2018

چترال، چمرکن میٹھے انار کیلئے بہت مشہور، انارموسم میں مہمان اور سیاح تازہ اناروں کا مزے لیتے ہیں، مگر انار کے باغ پراسرار بیماری کا شکار ہیں

 


چترال کا علاقہ چمرکن میٹھے انار کیلئے بہت مشہور ہے۔ اس موسم میں مہمان اور سیاح یہاں آکر تازہ اناروں کا مزے لیتے ہیں۔مگر انار کے ان باغوں میں ایک پر اسرار بیماری درختوں اور پھل کو وقت سے پہلے حتم کررہی ہے۔



چترال(گل حماد فاروقی) ویسے تو چترال کے ہر چپے میں کوئی نہ کوئی پھل ضرور پید ا ہوتا ہے مگر بعض علاقے حاص پھلوں کیلئے بہت مشہور ہوتے ہیں۔ چمرکن جو چترال کے راستے ہی میں واقع ہے یہ علاقہ میٹھے انار کیلئے بہت مشہور ہے۔ اس علاقے میں ہر زمیندار کا چھوٹا بڑا انار کا باغ ضرور ہوتا ہے یا اسے کھیتوں کے کنارے لگاتے ہیں اور اس میں بے دانہ انار بھی ہوتا ہے جس میں بیج نہیں ہوتا۔

ان اناروں میں قدرتی طور پر بعض جڑوا ں اور بعض تین انار اکھٹے پیدا ہوتے ہیں۔ انار اتارنے کیلئے بھی محصوص طریقہ اپنانا پڑتا ہے۔ زمیندار بڑا کرتہ(قمیص) پہنتا ہے اور اپنی کمر کو کپڑے سے باندھتا ہے انار اتارتے وقت اسے اپنے گریبان کے راستے قمیص کے اندر ڈالتے ہیں جسے نیچے سے باندھا ہوا ہوتا ہے تاکہ انار نیچے نہ گرے اور نہایت احتیاط سے اسے نیچے اتار کر رکھ لیتے ہیں۔

انار اتارتے وقت چھوٹے بچے بھی بڑوں کا نقل اتارتے ہیں اور ایک باغ میں بالکل ایسا ہوا جب ایک زمیندار انار اتار رہا تھا اس کا ڈیڑ ھ سال کا بیٹا بھی چھوٹے انار کو پکڑ کر اسے اتارتا ہوا دیکھا گیا جو نہایت محظوظ کن لمحہ تھا۔ 

اس موسم میں چمرکن کے علاقے میں ہر طر ف سے دوست احباب اور رشتہ داروں کے علاوہ سیاح بھی آتے ہیں۔ قاری مرزا ولی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ چمرکن میں تو ہر میوہ ہوتا ہے مگر یہاں کا انار بہت مشہور ہے اور تمام دوست احباب فرمایشیں کرتے ہیں کہ چمرکن کا انار لاؤ۔ 

اس موسم میں جب انار پک کر درخت سے اتارا جاتا ہے تو سکول کے بچے بھی اپنے ننیال اور رشتہ داروں کے گھر آتے ہیں جہاں یہ بچے خود بھی انار کھاتے ہیں اور اپنے ساتھ گھروں کو بھی لے جاتے ہیں۔ انیس الرحمان جو چھٹی جماعت کا طالب علم ہے وہ بھی چھٹیوں میں چمرکن آکر اپنے ماموں کے گھر انار کھاتا ہے اور اپنے ساتھ گھر بھی لے جاتا ہے

احتشام الحق بھی ساتویں جماعت کا طالب ہے جو ان دنوں چمرکن انار کے مزے لینے آیا ہوا ہے۔

یہاں کے لوگ انار کو درخت سے اتارنے کے بعد کش میں رکھتے ہیں میں سال بھر یہ تازہ رہتا ہے اور حراب نہیں ہوتا۔ کش زمین کے اندر ایک گرھا نما ہوتا ہے جس کے چاروں طرف بڑے پتھر رکھ کر تین فٹ کا کمرہ نما بنایا جاتا ہے اس کے اوپر بہت بڑا پتھر رکھ کر بیچ میں سوراح نکالتے ہیں اور اس کے اوپر گول دائرے والا پتھر رکھ کر بند کرتے ہیں اس کے اندر انار رکھا جاتا ہے جو سا ل بھر تازہ رہتا ہے۔ 

مقامی زمینداروں نے شکایت کی کہ ان کے انار کے باغات میں ایک پر اسرار بیمار ی پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے درخت میں کیڑا لگتا ہے اور ٹوٹ جاتا ہے جبکہ انار کا پھل وقت سے پہلے پھٹ جاتا ہے اور پکنے سے پہلے حراب ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کے ساتھ نہ تو سرکاری ادارے تعاون کرتے ہیں اور نہ محکمہ ذراعت۔ ایک مقامی زمیندار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ محکمہ ذراعت تو چترال میں برائے نام ہے ہم وہاں جاکر ان سے مشورہ لیتے ہیں مگر اول تو کوئی ہوتا نہیں اور اگر بالفرض کوئی موجود بھی ہو تو ہمارے ساتھ کسی قسم کا مدد نہیں کرتے نہ ہمیں کوئی مشورہ دیتے ہیں کہ اہم اپنے پھل دار باغ کو کیسے بیماری سے بچائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ مدد کی جائے تو وہ چمرکن کے اس میٹھے اور لذیذ انار کو پورے ملک میں سپلائی کرسکتے ہیں۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں