اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

8 اکتوبر، 2018

گولین میں زیادہ تر پائپ آبپاشی کے ہیں پبلک ہیلتھ کے صرف دو پائپ لاین ہیں

 

چترال(گل حماد فاروقی) گولین گول سے نکلنے والے پائپ جن میں سے اکثر لیک ہیں اور اس سے بڑی مقدار میں پانی نکل کر ضائع ہورہا ہے۔ پچھلے دنوں ہمارے نمائندے نے اس پر نجی ٹی وی چینلز پر رپورٹ چلایا تھا جس پر محکمہ پبلک ہیلتھ کے چیف انجنیر نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔ 



محکمہ پبلک ہیلتھ کے ترجمان نے ہمارے نمائندے کو فون پر بتایا کہ اس میں جو کالے رنگ کے پائپ ہیں وہ ذرعی مقصد کیلئے پانی فراہم کرتا ہے اور زیادہ تر وہی پائپ پھٹ چکے ہیں یا اس میں سوراح ہوکر پانی نکل رہا ہے جو آبپاشی کا منصوبہ تھا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ گولین گول سے پینے کی پانی کی دو منصوبے نکلتے ہیں جو صحیح کام کرتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ جو جی پائپ ہیں ان سے جو پانی نکلتا ہوا نظر آرہا ہے وہ دراصل ہوا کا وال لگا ہے اور جب پائپ میں پانی کم ہو یا مکمل طور پر پورا پانی نہیں آتا تو ہوا کے اس وال والی جگہہ سے ہوا کے ساتھ پانی نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پائپ میں پانی پورا آرہا ہو تو اس وال سے صرف ہوا نکلتا ہے پانی نہیں نکلتا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر پینے کی پائپ لائن میں جو تھوڑا بہت حرابی اگر ہو بھی تو اسے جلد ٹھیک کرایا جائے گا۔ 


واضح رہے کہ گولین میں چشمے سے نکلنے والے صاف پانی کی نہایت بہتات ہے مگر بدقسمتی سے یہ پانی زیادہ تر دریا میں گر کر ضائع ہورہا ہے اور اس کیلئے انگریز کی طرح پائپ لائن لانے کی ضرورت ہے تاکہ قدرت کے اس انمول تحفے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اسے استعمال میں لایا جائے اس کیلئے ڈیم یا بہت بڑا واٹر ٹینکر بھی بنایا جاسکتا ہے۔ مگر بلی کے گلے میں جرس کون باندھے گا اور باندھے گا بھی کیوں جب تک ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہ ہو۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں