2 اکتوبر، 2018

چترال میں قدرت کا انمول تحفہ یعنی پینے کا صاف پانی ناقص پائپ لائن کی وجہ سے جگہہ جگہہ ضایع ہورہا ہے جبکہ عوام پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں۔

 

چترال میں قدرت کا انمول تحفہ یعنی پینے کا صاف پانی ناقص پائپ لائن کی وجہ سے جگہہ جگہہ ضایع ہورہا ہے جبکہ عوام پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں۔



چترال (گل حماد فاروقی) ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیسری جنگ عظیم چڑھے گی تو اس کی وجہ صر ف اور صرف پانی کی حصول ہوگی جبکہ دوسری طرف چترال میں پینے کی صاف پانی کے قدرتی چشمے محتلف جگہوں میں موجود ہیں مگر ناقص منصوبہ بندی اور بد عنوانی کی وجہ سے قدرت کا یہ انمول تحفہ بے جا ضائع ہورہا ہے جس کے نتیجے میں اکثر لوگ پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں۔

گولین گول کے وادی میں قدرتی چشموں کی بہتات کی وجہ سے اکثر واٹر سپلائی سکیم اسی وادی سے نکالے گئے ہیں قدرت کا یہ انمول تحفہ پائپ لائن کے ذریعے چترال تو لایا گیا ہے مگر ناقص پائپ اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیرنگ کی غفلت کی وجہ سے یہ پانی راستے ہی میں ضائع ہورہا ہے۔ یہ پائپ راستے میں کئی جگہہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور پائپ پھٹ چکے ہیں جس کی وجہ سے یہ پانی فوارے کی طرح پائپ سے باہر نکلتا ہے جس سے نہ صرف پانی ضائع ہورہا ہے بلکہ اس جگہہ زمین کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔

چترال کے لوگوں نے اکثر پانی کی کمی اور ان پائپ لائنوں کی ناقص ہونے کے حلاف احتجاج کیا اور آواز بلند کیا مگر ان کا سنے کون جب ہر جگہہ رشوت ستانی کی پردوں کی وجہ سے محکمے کی افسران کے کانوں پر پرد ہ پڑے تو یہ بچارے لوگ چیحتے رہیں گے مگر ان کا کوئی شنوائی نہیں ہوگا۔



وادی گولین سے پینے کی پانی کے جتنے بھی پائپ لائے گئے ہیں یہ پائپ سارے کے سارے محکمہ پبلک ہیلتھ انجنئرنگ کے زیر نگرانی لائے گئے ہیں جن پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہیں مگر چترال کے عوام کی شکایت رہی ہے کہ یہ پائپ ناقص ہیں اور محکمہ کے اہلکاروں نے صرف اپنے جیب گرم کئے مگر کام کی معیار کو یقینی نہیں بنایا۔ ان پائپوں سے راستے میں جگہہ جگہہ پانی انتہائی تیز ی سے نکل رہی ہے اور فضول میں ضائیع ہورہی ہے جس سے آس پاس کے آبادی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف شاہ میراندہ، سینگور، میراندہ، بلچ اور اکثر علاقوں کے مکین پینے کی صاف پینے سے محروم ہیں ۔ شاہ میراندہ میں واٹر اینڈ سینیٹیشن یونٹ کا انگار غون کی پانی پچھلے دو سالوں سے نہیں آرہی ہے جبکہ بعض منظور نظر افراد کو دن رات پانی جاری ہے۔

سیاسی اور سماجی طبقہ فکر صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گولین گول اور دیگر جگہوں میں پانی کی پائپ لائن کی تحقیقات کی جائے کہ یہ پائپ قبل از وقت کیوں پھٹ گئے اور ان پائپوں کی فوری طور پر یا تو مرمت کی جائے یا مطلوبہ ٹھیکدار سے ا ن کو تبدیل کروایا جائے تاکہ لوگوں کو پینے کی صاف پانی میسر ہو اور وہ گندا پانی پینے پر مجبور نہ ہو۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں