9 اکتوبر، 2018

چترال سے مرغیوں کے فضلات باہر لے جاکر اس سے کھانے کا تیل اور گھی بنانے کا انکشاف: اجازت کس نے دی، جان کر غصہ آئے گا: پڑھیں

 

چترال سے مرغیوں کے فضلات باہر لے جاکر اس سے کھانے کا تیل اور گھی بنانے کا انکشاف۔ دروش کے چند سماجی کارکنوں نے گاڑی کو گھیر لیا مگر ڈرائیور کا کہنا ہے کہ اسے ڈی سی نے این او سی جاری کیا ہے۔



چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے مرغی مارکیٹ سے فضلہ اور تمام گندی ایک گاڑی میں اٹھاکر نیچے اضلاع لے جاتے ہیں جس سے ذرایع کے مطابق تیل اور چوزوں کیلئے دانہ بنتا ہے۔ دروش کے مقام پر صلاح الدین طوفان اور قاری فضل حق، نوید الرحمان چغتائی نے اس گاڑی کو گیر ے میں لے لیا جن میں نہ صرف ان چوزوں ، مرغیوں کے فضلہ موجود تھی بلکہ اس میں مرے ہوئے مرغیاں بھی پائے گئے۔ ان سماجی کارکنوں میں ایک مذہبی شحصیت قاری فضل الحق بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ گندگی نہایت مضر صحت ہے اور جس مقصد کیلئے بھی استعمال کی جاتی ہے انسانی جان کیلئے انتہائی حطرناک ہے۔

صلاح الدین طوفان جو مفتی نوراللہ کا برخوردار ہے ان کا تعلق بھی مذہبی جماعت سے ہے ان کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کو پہلے دروش پولیس نے پکڑ کر ا س گند کو تلف کیا تھا مگر ان مافیا نے چترال کے ڈپٹی کمشنر سے باقاعدہ اجازت نامہ لیا اور ان کے پاس تحریری طور پر NOC لیکر اس زہر آلود مواد کو نیچے لے جاکر اسے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔

قاری فضل حق کا کہنا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ان مرغیوں کے فضلے (آنت، چمڑا اور دیگر گندہ مواد) ان کو انسانی استعمال کیلئے کبھی بھی کام میں نہیں لایا جاتا مگر پاکستان واحد ملک ہے جہاں کیمکل سے بھی دودھ بنائی جاتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس محکمہ صحت کے جانب سے کوئی تحریری سرٹیفیکیٹ نہیں ہے۔ 

ان رضاکاروں نے اعلےٰ حکام اور محکمہ صحت اور محکمہ حوراک کے ارباب احتیار سے اپیل کی ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کرے کہ اس زہریلے فضلہ کو کہاں استعمال کی جاتی ہے کیونکہ کچھ عرصہ پہلے اے آری وائی نیوز کے سر عام پروگرام میں اقرار الحسن نے کراچی وغیرہ میں مردار جانوروں کے چربی سے گھی بنانے کا انکشاف کیا تھا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان مردہ مرغیوں اور اور ان کے گندہ فضلہ سے انسانوں کیلئے گھی یا تیل تو نہیں تیار کی جاتی ہے۔ 



واضح رہے کہ اس سے پہلے ان مرغیوں کا فضلہ دریائے چترال میں ڈالا جاتا تھا جس سے دریا کا پانی آلودہ ہوجاتا جسے لوگ استعمال کرتے ہیں اس کے بعد تحصیل میونسپل انتظامیہ نے ان مرغی لانے والے گاڑیوں پر ٹیکس لگایا جو ہر گاڑی سے ہزار روپے وصول کرتے تھے مگر ان کی فضلہ کو ٹکانے لگانے کیلئے کوئی بندوبست نہیں کیا اور اب یہ فضلہ گاڑی میں نیچے لے جاکر جو راستے میں گل سڑنے کے بعد اسے دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے جو واقعی میں تشویش ناک بات ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں