8 اکتوبر، 2018

چترال ٹریفک پولیس کالج اور سکول کے بسوں کو زیادہ طلباء بٹھانے پر چالان دیکر جرمانہ کیا ، بسوں مقررہ حد سے بھی زیادہ طلباء بٹھائے جاتے تھے جو حطرناک ہے۔ ٹریفک پولیس کا موقف

 

چترال ٹریفک پولیس نے کئی کالج اور سکول کے بسوں کو حد سے زیادہ طلباء بٹھانے پر چالان دیکر جرمانہ عاید کیا۔ ان بسو ں میں اپنے مقررہ حد سے بھی دگنی طلباء بٹھائے جاتے تھے جو حطرناک ہے۔ ٹریفک پولیس کا موقف۔



چترال(گل حماد فاروقی)صوبائی حکومت کے بعض اقدامات نہایت احسن ہیں اور عوام کے فائدے کیلئے بنائے گئے ہیں جن میں ایک پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی بھی ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر نے ٹریفک پولیس کو تحریری طور پر ہدایت کی ہے جو نجی اور سرکاری سکول کے بسوں میں حد سے زیادہ طلباء بٹھائے جاتے ہیں ان کو چالان دیکر جرمانہ کرے۔ اسی سلسلے کے کی ایک کڑی چترال میں بھی ایک اچھا کام شروع ہوا اور وہ یہ کہ ٹریفک پولیس نے نجی اور سرکاری سکول اور کالجوں کے بس ڈرائیوران کو چالان دیکر ان پر جرمانہ عائد کیا۔ 

چیو پل کے قریب ٹریفک پولیس کا عملہ اپنا فرائض انجام دے رہا تھا کہ اس دوران دی لینگلینڈ سکول اینڈ کالج کے متعدد بسیں آئے جن میں اپنی حد سے بھی زیادہ دگنی طلباء اور طالبات کو بٹھائے گئے تھے۔ جو کہ نہایت حطرناک ہے اور کسی بھی وقت خدانحواستہ حادثے کا باعث بن سکتا ہے اس پر ٹریفک پولیس نے ان کو پرچہ دیا اس دوران ڈگری کالج کا بس بھی آیا اس کا بھی یہی حال تھا اور اسے بھی پرچہ تھمایا گیا۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر نے بتایا کہ ان کو باقاعدہ PSRA کی جانب سے حط آیا ہے کہ ایسے سکولوں کے بسوں کے ڈرائیوروں کو جرمانہ کرے جن میں حد سے زیادہ سواری بٹھائے جاتے ہیں۔

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے ٹریفک پولیس کی اس اقدام کو نہایت سراہا۔ چند طلباء نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ جب ٹریفک پولیس کا آفسیر آیا تو بس میں بہت زیادہ طلباء کھڑے بھی تھے تو ہماری استانی (مس) نے فوراً کہا کہ بیٹھ جاؤ تاکہ تمھیں پولیس نہ دیکھے مگر پولیس آفیسر نے گاڑی کے اندر آکر دیکھا تو بہت زیادہ بچے بٹھائے گئے تھے جن پر ان کو پرچہ دیا گیا۔

والدین نے اس اقدام کو نہایت سراہا۔ چند والدین نے بتایا کہ لنگلینڈ سکول اینڈ کالج کو تمام بسیں سعید اللہ خان پراچہ نے عطیہ کے طور پر مفت دئے ہیں مگر سکول کا انتظامیہ طلباء سے پورا کرایہ بھی وصول کرتے ہیں اور اس کے باوجود ان بسوں میں اپنی حد سے زیادہ بچے بٹھاتے ہیں جو حطرناک ہے۔ واضح رہے کہ چند سال قبل اسی سکول کا ایک بس اس وقت بے قابو ہوکر نیچے کھائی میں گرا جب وہ دولوموچ کے مقام پر واقع اسی سکول کے طلباء کو لارہا تھا اور اسی سڑک پر ہوٹل کے نیچے کھائی میں گرا تھا مگر معجزاتی طور پر اس میں طلبا ء بال بال بچ گئے صرف زحمی ہوئے تھے مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں