13 اکتوبر، 2018

چترال کے DHO کے تبادلے کے بعد ابھی تک نہ نئے ڈی ایچ او کو چارج دیا اور نہ دروش ہسپتال کا چارج سنبھالا۔ عوامی حلقوں کا وزیر اعلےٰ سے کاروائی کا مطالبہ

 

چترال کے DHO کے تبادلے کے بعد ابھی تک نہ نئے ڈی ایچ او کو چارج دیا اور نہ دروش ہسپتال کا چارج سنبھالا۔ عوامی حلقوں کا وزیر اعلےٰ سے کاروائی کا مطالبہ



چترال (گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اسراراللہ کے پانچویں
بار تبادلے کے حکم کا انہوں نے دھجیاں اڑادی۔ دروش کے سماجی کارکنوں نے
سماجی رابطوں کے ویب سائٹ فیس بک پر ایک پوسٹ لگایا ہے جس میں موقف
احتیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسرا راللہ کو پاکستان تحریک انصاف کے چند
مفاد پرست عناصر کی آشیر باد حاصل تھی جس کی وجہ سے چار مرتبہ اس کے
تبادلے کا حکم منسوح ہوا۔ انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ڈاکٹر اسرار اللہ کی
وجہ سے چترال کے ہسپتالوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کیونکہ ڈاکٹر
موصوف زیادہ تر اپنے ٹی اے ڈی اے لینے کیلئے ہر ماہ پندہ سے بیس مرتبہ
پشاور کا چکر لگاتا رہا جب کہ اس کی غیر موجودگی میں بروغل اور بالائی
چترال سے آنے والے درخواست گزاروں اور عوام کو نہایت مشکلات کا سامنا
پڑتا تھا۔

سماجی کارکنوں نے مزید لکھا ہے کہ ڈاکٹر اسر ار اللہ کا 4 اکتوبر کو
تبادلہ ہوا ہے مگر وہ اسی دن سے سرکاری گاڑی اور سرکاری ڈرائیور لیکر
پشاور میں ڈھیرے ڈالے ہوئے ہیں اور اس کوشش میں لگا ہے کہ پاکستان تحریک
انصاف کی کسی ایم پی اے یا وزیر کی سفارش پر وہ دوبارہ DHO کے پوسٹ پر
آئے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس نے نہ نئے ڈی ایچ او ڈاکٹر افتحار الدین کو
چارج دیا ہے اور نہ اس نے خود دروش ہسپتال کے بطور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ
(میڈیکل آفیسر انچارج) کا چارج لیا ہوا ہے اور دروش ہسپتال میں آنے والے
ہزاروں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے نمائندے نے ڈی ایچ او دفتر جاکر نئے ڈی ایچ او ڈاکٹر افتحار سے
دریافت کیا جنہوں نے تصدیق کرلی کہ وہ ابھی تک بغیر چارج لئے ہوئے کام
کرر ہا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو ان کے دفتر کے تمام عملہ کو اس
ماہ تنخواہ بھی نہیں ملتا نیز انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر اسرا ر اللہ
نے دفتر کا سرکاری گاڑی بھی لے گیا ہے اور ایک ڈرائیور بھی جس کی وجہ سے
نئے ڈی ایچ او کو اپنے فرض منصبی نبھانے میں نہایت مشکلات کا سامنا کرنا
پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبادلے کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے انہوں نے 5
اکتوبر کو کام شروع کیا ہے مگر اسے ابھی تک باقاعدہ طور پر چارج نہیں دیا
گیا ہے

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ سابق ڈاکٹر اسر ار اللہ کے دور میں کئی ڈاکٹر،
پیرا میڈیکل سٹاف اور درجہ چہارم سٹاف گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے تھے تو
انہوں نے جواب دیا کہ ڈاکٹر اسماعیل جو ڈی ایچ او دفتر میں تعینات تھے
اور پچھلے ڈیڑھ سال سے پشاور میں تھے وہ اب ڈاکٹر اسرار کے جانے کے بعد
چترال پہنچ گیا اور اسے چترال کے کسی ہسپتال میں تعینات کیا جائے گا
آزاد ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر اسماعیل کا تعلق عشریت سے ہے جو چلڈرن
اسپیشلسٹ بھی ہے اور وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے پشاور میں بیٹھ کر بغیر کسی
ڈیوٹی کے تنخواہ لے رہے تھے اور مزے کی بات یہ کہ وہ ڈی ایچ او آفس کے
عدالتی کیسوں کی پیروی کرنے کیلئے پشاور جانے کا باقاعد ہ ٹی اے ڈی اے
بھی لیتا رہا مگر اس نے ایک دن بھی ڈیوٹی نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ ا س
بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ کئی دیگر عملہ ڈاکٹر اسرار کے دور میں گھر
بیٹھ کر تنخواہ لیتے رہے اور عوام یہ شک کرتے ہیں کہ شائد ان عملہ سے
ڈاکٹر موصوف کو ماہوا ر کچھ ملتا رہا۔

نئے ڈی ایچ او نے بتایا کہ اس کے علاوہ ڈاکٹر یحیٰ خان، ڈاکٹر شجاع او ر
ڈاکٹر شہلا بھی DHO آفس کے Strenght میں ہیں مگر وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال
میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں تاہم ڈاکٹر اسماعیل اور دیگر عملے کے بارے
میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ دو سالوں سے کہاں ڈیوٹی کرتے رہے ۔ اس سلسلے
میں جب سابق ڈی ایچ او ڈاکٹر اسرا ر سے پوچھا گیا تھا تو ان کا جواب تھا
کہ ڈاکٹر اسماعیل ان کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں عدالتی کیس نمٹا رہے
ہیں۔
اس سلسلے میں کچھ عرصہ پہلے چترال کے ضلعی اسمبلی(ضلعی کونسل) میں ایک
معزز رکن نے یہا ں تک کہاتھا کہ پرویز خٹک کا بطور وزیر اعلےٰ چترال پر
ایک عذاب یہ تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر اسرار کو چار مرتبہ تبادلے کے باوجود
DHO لگایا جس کی وجہ سے محکمہ صحت کا نظام درہم برہم ہوا۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے چند محلص اراکین نے گزشتہ روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے چند
مفاد پرست ٹولہ صرف اپنے ذاتی مقاصد اور کام نکلوانے کیلئے ڈاکٹر اسرار
اللہ کو پانچویں مرتبہ DHO کے طور پر لارہے ہیں جس سے چترال کو ناقابل
تلافی نقصان پہنچے گا انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ڈاکٹر اسر ار کو
پھر ڈی ایچ او لایا گیا تووہ اس کے حلاف راست قدم اٹھانے پر مجبور ہوں
گے۔
ایک کارکن نے نام نہ بتانے کی شرط پر ہمارے نمائندے کو بتایا کہ سابق DHO
ڈاکٹر اسرار اللہ اپنی ملازمت بچانے کیلئے پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں کو
اپنا سرکاری گاڑی دیا کرتا تھا جس میں اکثر وہ رمبور ، کیلاش وادی سے
عمارتی لکڑی بھی لایا کرتے تھے اور اس کے بدلے وہ ا س کے تبادلے کو بار
بار منسوح کرتے تھے۔
چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ اور
سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کرے کہ ڈاکٹر
اسرار کے دور میں ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کیوں گھر بیٹھے تنخواہیں لیتے رہے
اور ان کو کس کے حکم پر گھر بیٹھنے کی اجازت دی تھی نیز مالی اخراجات اور
ٹی اے ڈی اے کا بھی تحقیقات ہونا چاہئے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں