16 اکتوبر، 2018

حبیب بینک HBL کے صدرمحمد اورنگزیب کا آئی ایم ایف ، سی پیک اور ڈیجیٹلائزیشن پراظہارِخیال

 



بالی، انڈونیشیاء : HBL کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد اورنگزیب کوHBL کے صدر اور پاکستانی بینکنگ سیکٹر کے واحد نمائندے کی حیثیت سے اپنے خیالات کے اظہار کیلئے اجلاس میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ محمد اورنگزیب پاکستان سے واحد چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ واحد پاکستانی ہیں جنہوں نے ڈاؤ جونز گروپ (وال اسٹریٹ جرنل) کے زیرِ اہتمام گلوبل سی ای او کونسل میں شمولیت کو قبول کیا۔ 

اجلاس کے موقع پر بلومبرگ کے ساتھ ایک انٹرویو میںHBL کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے مالی خسارے کو محدود کرنے، ملک کے ٹیکس بیس اور برآمدات میں اضافے کی حوصلہ افزائی کیلئے بعض مشکل فیصلے کئے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے ساتھ بحالی کے اقدامات کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تخفیف پاکستان اور برآمدات کیلئے معاون ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کو طویل المدت اور پائیداربنانا ہے تو ’میڈ اِن پاکستان ‘اور برآمدی ماڈل آگے بڑھنے کا راستہ ہونگے۔

چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘اقدام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے، توانائی کا شعبہ، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر منصوبے پاکستان کیلئے سود مند ہیں جبکہ درمیانی مدت سے طویل المدت یہ منصوبے پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے توازن پر طویل المدت مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر اِن منصوبوں کی انوائس چینی کرنسی (آر ایم بی) میں ہونی چاہئے اور بالخصوص توانائی کے منصوبوں کو RMB میں سیٹل کرنا چاہئے۔ ان منصوبوں کو ڈالر انڈیکس میں نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ RMB انڈیکس پاکستانی ترقی کیلئے ایک شاندار موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ HBL واحد پاکستانی بینک ہے جس کی چین میں حقیقی معنوں میں موجودگی ہے۔ 

مستقبل کے تناظر اور ڈیجیٹلائزیشن میں انہوں نے کہا کہ’HBL خود کو بینکنگ لائسنس کے ساتھ ایک آئی ٹی کمپنی تصور کرتا ہے‘۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بورڈ آف گورنرز اور ورلڈ بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کا سالانہ اجلاس 12اکتوبر سے 14 اکتوبر 2018ء تک انڈونیشیاء کے شہر بالی میں منعقد ہوا۔ دونوں اداروں آئی ایم ایف اور ڈبلیو بی جی نے مرکزی بینکوں کے گورنرز، وزراء برائے خزانہ ، سینئر پارلیمنٹیرینز،ماہر صنعتکاروں، نجی شعبہ کی شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور تعلیمی اداروں کو عالمی معاشی صورتحال، غربت کے خاتمہ، اقتصادی ترقی اور مؤثر امداد بشمول عالمی معیشت، بین الاقوامی ترقی اور عالمی مالیاتی نظام پر توجہ مرکوز کرنے والے بہت سے دیگر عوامل پر بحث کیلئے مدعو کیا۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں