3 نومبر، 2018

مولانا سمیع الحق پر گھر میں چھریوں سے حملہ مولانا صاحب جان بحق ہوئے، نماز جنازہ آج 3 بجے خوشحال ڈگری کالج کوڑہ خٹک میں ادا کی جائے گی

 

مولانا سمیع الحق پر گھر میں چھریوں سے حملہ مولانا صاحب جان بحق ہوئے،  نماز جنازہ آج 3 بجے خوشحال ڈگری کالج کوڑہ خٹک میں ادا کی جائے گی

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) مولانا سمیع الحق کا قتل ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہونے کا شبہ ، قاتل کا گھر میں آنا جانا تھا ۔ دنیا نیوز کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا سمیع الحق کا قتل ذاتی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، ابتدائی تفتیش سے لگتاہے کہ قاتل کا گھر میں آنا جانا تھا ۔ قاتل دیوار پھلانگ کرگھر میں داخل ہوئے اور مولانا سمیع الحق پر چاقو کے متعدد وار کئے گئے ، گارڈ اور ملازم گھر کا دروازہ بن کرکے گئے تھے ۔

مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق  کے مطابق حملہ گھر پر ہوا ہے، گھر کا ملازم سبزی لینے باہر گیا تھا جب واپس آیا تو دیکھا مولانا خون میں لت پت بے ہوشی کی حالت میں پڑے تھے ، چاقو سے ان کے سینے پر وار کیے گئے ، فوری طور پر ان کو ہسپتال لیجایا گیا لیکن ڈاکٹر وں نے ان کے شہید ہونے کی تصدیق کر دی ۔

واضح رہے کہ نامعلوم قاتلوں نے راولپنڈی میں مولانا سمیع الحق کے گھر میں اس وقت گھس کر چاقو کے وار کر کے شہید کر دیا جب ان کا گارڈ اور ملازم باہر گئے ہوئے تھے۔ وہ واپس آئے تو مولانا سمیع الحق کو خون میں لت پت بے حس و حرکت پایا جس پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ ہسپتال آنے سے قبل ہی خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔

مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے کہا ہے کہ افغان حکومت اور افغانستان میں موجود مختلف طاقتوں کی جانب سے والد کو خطرہ تھا اور وہاں سے تھریٹس آرہے تھے۔ کیوں کہ والد صاحب افغانستان کو امریکا کے تسلط سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔  ہمیں ملکی خفیہ اداروں نے بھی کئی بار بتایا تھا کہ مولانا سمیع الحق بین الاقوامی خفیہ اداروں کے ہدف پر ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ ہم نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو دھمکیوں کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا، جب کہ دارالعلوم اکوڑہ خٹک میں بھی سیکیورٹی سخت کردی گئی تھی تاہم مولانا صاحب سیکیورٹی کو پسند نہیں کرتے تھے اس لیے سفر میں ان کے ساتھ دوستوں کے علاوہ کوئی سیکیورٹی اہلکار نہیں ہوتا تھا۔

مولانا حامد الحق نے مزید کہا کہ ایسی قوتیں جو ملک میں اسلام کا غلبہ نہیں چاہتیں، جو جہاد مخالف ہیں، جو مدرسوں اور خانقاہوں کی مخالفت کرتے ہیں وہی طاقتیں اس قتل میں ملوث ہیں۔ میں اس موقع پر مولانا سمیع الحق کے چاہنے والے کارکنان اور عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور دشمن قوتوں کو تنقید کا موقع نہ دیں۔ بیٹے نے میڈیا کو بتایا کہ والد خود سیکیوریٹی نہیں لینا چاہتے تھے اور وہ پولیس کی سیکیوریٹی خود نہیں رکھتے تھے۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں