1 نومبر، 2018

اے کے آرایس پی میں چیک اینڈ بیلنس کی عدم موجودگی : لاکھوں کے تباہ حال منصوبے، علاقی لحاظ رکھنے والے پستے شریف لوگ

 

اے کے آرایس پی میں چیک اینڈ بیلنس کا فقدان : لاکھوں کے تباہ حال منصوبے، علاقی لحاظ رکھنے والے پستے شریف لوگ



چترال، ریشن (ٹائمزآف چترال اسپیشل رپورٹ) ریشن پانی کی نعمت سے مالا مال گاؤں ہے۔ تین دریائوں لوٹ شال، بی یو گول اور شاہ کوہ گول مل کر دریائے ریشن بناتے ہیں۔ چونکہ ریشن پانی سے مالامال علاقہ ہے اس لئے جرمن انجینئر ریشن بجلی گھر کو اسی علاقے میں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور یوں 4 میگاواٹ کا حامل ریشن بجلی 90 کی دہائی میں یہاں تعمیر ہوا اور کئی سالوں تک چترال کے بیشتر علاقوں کو روشن کرتا رہے۔ 2015 کے سیلاب کے بعد جہاں بجلی گھر تباہ ہوا وہاں ریشن کا ایریگیشن سسٹم اور پینے کے پانی کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔ گو کہ پینے کے پانی کا نظام اس سے قبل بھی کوئی قابل تعریف نہ تھی لیکن پانی گاؤں والوں کو میسر تھا۔ اس وقت سے لیکر آج تک یہ دونوں مسائل یعنی پانی اور بجلی، حل نہ ہوسکے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے یہ کہہ کر چترال کے مسائل کی جانب کوئی توجہ نہ دی کہ 2013 کے الیکشن میں یہاں اسے ووٹ کم ملے۔

ریشن کئی سالوں سے پینے کے پانی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ 30 سال پرانا پینے کے پانی کا نظام گل سڑ چکا ہے۔ زیر زمین پائپ بھی زنگ آلود ہوکر مٹی میں مل رہے ہیں۔ کئی بار سرویز ہوئے لیکن کوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔ صوبائی حکومت اس ضمن میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ عوامی نمائندے برائے نام ہیں۔ بلدیاتی نظام صرف نام کا رہ گیا ہے۔ صوبے میں بہترین بلدیات نظام لانے کے صوبائی حکومت کھوکھلے دعوے کر رہی ہے۔ 

گزشتہ سال ریشن گول میں پانی کو صاف کرنے کے لئے اے کے آر ایس پی اور یوکے ایڈ، یونیسف کی امداد سے ایک واٹر فلٹریشن کا چھوٹا سا منصوبہ شروع کیا گیا۔ جس کا ٹھیکہ ریشن گول کے حیات الدین کو دیا گیا تھا جوکہ ناتجربہ کار تھا۔ چونکہ وہ اپنی زمین دے رہے تھے اس لئے ٹھیکہ بھی انہیں دیا گیا۔ جس نے منصوبے کی تعمیر شروع کی۔ اور اپنی نا تجربہ کاری کی وجہ سے فلٹریشن پلانٹ کی دیواروں کو پتھروں سے مظبوط بنانے کے بجائے اینٹوں کا استعمال کیا۔ تیاری کے بعد جب اس میں پانی چھوڑا گیا تو پانی اس میں ٹھہر نہ سکا۔ اور دیواریں توڑ کر بہہ گیا۔ اور یوں لاکھوں روپے ضائع اور کرپشن کی نذر ہوگئے۔ اس کے بعد یہ منصوبہ سرد خانے کی نذر ہوگیا۔ باوجود لاکھوں روپے کا فنڈ دینے کے مذکورہ این جی او ٹھیکے دار سے کوئی انکوائری نہیں کی۔ اور ٹھیکہ دار کو اکاونٹیبل نہیں بنایا۔ علاقے کے لوگ اپنی اسی شریفانہ روش کی وجہ سے وہ گندہ پانی پینے پر ایک بار پھر مجبور ہوئے۔ 

ذرائع کے مطابق اب اسی منصوبے کا ٹھیکہ زیئت کے عارف اللہ، جو ولیج کونسل ممبر بھی ہے، کو دیا گیا ہے۔ علاقے کے لوگوں کے مطابق نیا ٹھیکہ دار پر اس پر زیادہ توجہ نہیں دے رہا۔ اور کام انہتائی سست روی کا شکار ہے۔ علاقے مکین شکایت کرتے ہیں کہ این جی او خطیر رقم دیتا ہے تو کاموں کی نگرانی کیوں نہیں کرتا اگر نہیں کرتا تو اس میں بھی کرپشن کا کوئی نہ کوئی پہلو نکلتا ہے۔ 

(برائے مہربانی ان دونوں کی ٹھیکوں کی لاگت کے بارے میں مطلع کریں، گزشتہ منصوبہ کتنے کا تھا اور اب یہ کتنے کا دیا گیا ہے)




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں