23 نومبر، 2018

پولیو کے حاتمے میں صحافی، میڈیا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ چترال اور ملاکنڈ کے صحافیوں کیلئے پولیو کے حاتمے پر ایک روزہ ورکشاپ سے ماہرین کا اظہار حیال۔

پولیو کے حاتمے میں صحافی، میڈیا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ چترال اور ملاکنڈ کے صحافیوں کیلئے پولیو کے حاتمے پر ایک روزہ ورکشاپ سے ماہرین کا اظہار حیال۔



چترال(گل حماد فاروقی) چترال ، سوات، دیر بالا، دیر زیرین اور ملاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کیلئے پولیو کے حاتمے میں میڈیا کی کردار پر سوات میں ایک روزہ ورکشاپ منعقد ہوا۔ ورکشاپ میں صحافیوں سے اظہار حیال کرتے ہوئے ڈائیریکٹر ای پی آئی خیبر پحتون خواہ ڈاکٹر اکرم شاہ نے صحافی برادری پر زور دیا کہ کہ وہ اپنے قلم کی طاقت کے ذریعے عوام کو پولیو ویکسینیشن کی افادیت اور دیگر موذی بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات سے آگاہ کرے تا کہ ان بیماریوں سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکے۔اس موقع پر BMGF کے فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ ، عالمی ادارہ صحت کے پی پی ای او ڈاکٹر علاؤدین، صوبائی ٹیم لیڈر ڈاکٹر اعجاز علی شاہ، یونیسیف کی کمیونیکیشن آفیسر شاداب یونس ، ڈی ایچ او سوات، اسسٹنٹ کمشنر سوات اور محکمہ صحت کے دیگرمتعلقہ حکام نے بھی اس اہم ورکشاپ میں شرکت کرتے ہوئے اظہار حیال کیا۔

ڈاکٹر اکرم شاہ نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ایمرجنسی کا حصہ ہے اور اس مقصد کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں تمام تر وسائل کو بروئے کار لارہے ہیں تاکہ اس موذی مرض کا خاتمہ ہو انہوںے نے پولیو کے ختمے کیلئے میڈیا کے مثبت اور تعمیری کردار کو رراہا اور امید ظاہر کی کہ میڈیا پولیو سے متعلق منفی پرپیگنڈے کو ختم کرنے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے گا۔ 

پولیو کے خاتمے کے فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے قومی ایمرجنسی پلان کے خدوخال سے متعلق صحافیوں کو آگاہ کیا اور کہا کہ صحافی پولیو مہمات کی افادیت سے متعلق رائے عامہ کو ہموار کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ایمرجنسی آپریشن سنٹر قائم کئے گئے ہیں تاکہ مربوط حکمت عملی کے تحت اس بیماری سے نمٹا جاسکے ، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر علاء دین نے ورکشاپ کے شرکاء کو پولیو کے ویکسین محفوظ ہونے اور دیگر اہم افادیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کی ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے اور تما م اسلامی ممالک میں یہی پولیو ویکسین استعمال کی گئی ہیں جو کہ اب پاکستان میں بھی استعمال ہورہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو کا وائیرس ماحول میں پایا جاتا ہے اس لئے پولیو کی ویکسینیشن کی ہر مہم میں اپنے بچوں کو قطرے پلانا ضروری ہے ڈاکٹر اعجاز نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں پولیو وائریس بدستور موجود ہے جب تک ہر بچے کو پولیو کے قطرے نہ پلائیں جائیں اس وقت تک اس وائریس کی مکمل بیخ کنی ممکن نہیں ۔ ورکشاپ کے دوران سوال و جواب کا بھی سیشن ہوا جس میں ماہرین نے محتلف سوالات کے جوابات دئے۔ آحر میں ورکشاپ کے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کئے گئے


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں