بائکو مبارک ویلیج کے نزدیک تیل کے اخراج کا ذمہ دار نہیں

کراچی: بلوچستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (بی ای پی اے) نے جامع تحقیق کے بعد اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بائکو پیٹرولیم پاکستان لمیٹڈ (بی پی پی ایل) کی تنصیبات سے کسی قسم کے تیل کا اخراج یا آلودگی نہیں ہوئی ہے۔ اس بات کی مزید توثیق پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ بی ای پی اے اور پی ایم ایس اے نے 25 اکتوبر کو تحقیقات کا آغاز کیا جن میں مبارک ویلیج کے ساحل پر بہنے والے تیل کے اخراج کے ماخذ کا تعین کرنے کے لئے فضائی سروے بھی کیا گیا تھا۔ ان تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ بائکو کی تنصیبات سے کسی قسم کے تیل اخراج کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ 


اپنے طور پر تحقیقات کرکے بائکو نے جائے وقوعہ پر موجود تیل کے نمونے کی جانچ پڑتال کی جس سے یہ پتہ چلا کہ بنکر آئل ہے جو بائکو کی ریفائنری یا پاکستان کی کسی بھی ریفائنری میں تیار نہیں ہوتا۔ بنکر آئل کو جہاز میں بطور فیول استعمال کیا جاتا ہے اور اس صورتحال میں اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ شپ بریکنگ کے لئے گڈانی جانے والے جہاز نسے بنکر آئل کا اخراج ہوا ہو۔ 

بائکو نے بعض حلقوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی ان گمراہ کن اطلاعات کا سخت نوٹس لیا ہے کہ تیل کا اخراج بائکو کی تنصیبات سے ہوا اور ان عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بائکو کی سنگل پوائنٹ مورنگ (ایس پی ایم) اور زیرزمین پائپ لائن مکمل طور پر قومی اور بین الاقوامی معیارات اور سیفٹی اسٹینڈرڈز کے مطابق ہے اور بائکو کی تمام تنصیبات میں باقاعدگی سے جامع سیفٹی انسپیکشن کیا جاتا ہے۔ 

بائکو پیٹرولیم پاکستان لمیٹڈ کے جی ایم کمیونکیشنز شہریار احمد نے کہا، "بائکو واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کسی طرح سے اسکی تنصیبات سے تیل کا اخراج نہیں ہوا ہے۔ بعض عناصر روایتی اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کے ذریعے بائکو کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں جن کے خلاف ہم قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز سے ہماری درخواست ہے کہ سمندر میں موجود جہازوں سے تیل کے اخراج سے سمندری آلودگی پھیلنے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے اور ہمیں مستقبل میںآبی حیات کو نقصان پہنچانے والے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات کرنے چاہیءں " 


Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post