اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

5 نومبر، 2018

چترال کے علاقے کریم آباد میں پہاڑی تودہ گرنے سے زمینی رابطے منقطع۔ ہزاروں کے مکین محصور ہوگئے۔

 

چترال(گل حماد فاروقی) پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے وادی کریم آباد کا مین شاہ راہ ہر قسم ٹریفک کیلئے بند۔ اس وادی کے بریشگرام گاؤں سے تعلق رکھنے والے رکن تحصیل کونسل محمد علی جو صوبے میں حکمران پارٹی کا کارکن بھی ہے نے ٹیلیفون پر ہمارے نمائندے کو بتایا کہ گزشتہ رات بارش کے بعد کریم آباد روڈ پر ہنجیل کے مقام پر بہت بڑا پہاڑی تودہ گر گیا جس کی وجہ سے یہ سڑک ہر قسم ٹریفک کیلئے بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تودہ ڈیڑھ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اس کی صفائی کا کام مقامی لوگوں کی بس ک بات نہیں ہے جبکہ محکمہ مواصلات (Communication & Works) کی طرف سے ابھی تک اس راستے کی صفائی کیلئے کوئی مشنری نہیں لگائی گئی ہے۔ 



محمد علی نے بتایا کہ مٹی کا تودہ گرنے کے ساتھ ساتھ پہاڑی سے بھاری بھر کم پتھر بھی سڑک پر گر گئے اور راستہ مکمل طور پر بند ہے انہوں نے مزید بتایا کہ اس سڑک کی بندش کی وجہ سے وادی کریم آباد، سو سوم اور دیگر علاقوں کے ہزاروں مکینوں کا چترال کے ساتھ رابطہ منقطع ہوچکا ہے اور اگر صورت حال یہ رہی تو اگلے چند دنوں میں آشیائے خوردنوش کی سخت قلعت بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
محمد علی خان کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں ضلعی انتظامیہ کو آٹھ عدد فور ویل ٹریکٹر دئے گئے تھے جن میں بلیڈ بھی لگا تھا اور ان ٹریکٹروں کو ان وادیوں کو دینے کا مقصد یہ تھا کہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے کام آئے اگر کہیں راستہ بند ہوجائے تو ان ٹریکٹروں کو بروئے کار لاتے ہوئے راستے سے ملبہ ہٹاکر اسے فوری طور پر کھول دے مگر معلوم نہیں کہ یہ قیمتی ٹریکٹر کن افسروں کے گھر میں کھڑے ہیں کیونکہ عام طور پر یہ تاثر ہے کہ یہ ٹریکٹر چند با اثر افراد کے گھروں میں کھڑا ہے اور ان سے ذاتی کام لیتے ہیں جبکہ یہ ٹریکٹر عوام کی خدمت کیلئے خریدے گئے تھے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وادی کریم آباد کے سڑکوں کو فوری طور پر ٹریفک کیلئے کھول دیا جائے تاکہ یہاں کے ہزاروں لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں