28 نومبر، 2018

چترال میں موسم سرما کی آتے ہی لوگ گرم لباس خریدنا شروع کرتے ہیں جسے نہ صرف خود بڑے شوق سے پہنتے ہیں بلکہ دوست احباب کو بھی تحفے میں پیش کرتے ہیں۔

 

چترال (گل حماد فاروقی) چترال میں موسم سرما کے آتے ہی لوگ چترالی سوغات خریدنا شروع کرتے ہیں جس میں زیادہ تر اون سے ہاتھ کے بنے ہوئے کپڑے بہت پسند کئے جاتے ہیں جو نہ صرف خریداروں کو سردی سے بچاتے ہیں بلکہ آرائش او ر زینت کیلئے بھی بطور فیشن پہنے جاتے ہیں۔ 



لاہور سے آئے ہوئے ایک گروپ بھی چترال کے شاہی بازار میں 52 سال سے موجود چترال پٹی سٹور میں موجود تھے جو یہاں سے چترال کے گرم پوشاک خرید رہے تھے ۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ذوار علی نے بتایا کہ لاہور میں ان کے خاندا ن میں شادی ہونے والی ہے اس نے یہاں سے چترالی واسکٹ اور شال خریدا جسے وہ شادی کے موقع پر پہنے گا۔ 

اسی سٹور میں فرانس سے آئی ہوئی ایک سیاح خاتون بھی موجود تھی جو اپنے لئے کوئی گرم لباس اور گرم چترالی ٹوپی خریدنا چاہتی تھی۔Isabelle جو ایک سیاح ہے وہ بھی چترال پٹی سٹور میں گرم پوشاک خریدنا چاہتی تھی اس نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ وہ مجھے چترال کی روایات اور روایاتی لباس بہت پسند آیا جو نہ صرف سردی سے بچاتی ہے بلکہ خوبصورت بھی لگتی ہے اس نے حاجی ظاہر خان کا شکریہ ادا کیا جو چترال پٹی سٹور کے مالک ہے اور انہوں نے اس سیاح خاتون سے چترالی پکول یعنی گرم ٹوپی کا کوئی قیمت نہیں لیا بلکہ اسے یہ کہہ کر تحفے میں پیش کی کہ وہ ہمارے ملک میں مہمان ہے۔

یہاں چترالی پٹی سے بنی ہوئی چترالی ٹوپی، واسکٹ، کوٹ، چوغہ، شال وغیرہ موجود ہیں جو محتلف انواع اور اقسام میں پائے جاتے ہیں۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے حاجی محمد ظاہر خان نے بتایا کہ وہ پچھلے 52 سالوں سے یہ کاروبار کررہے ہیں مگر انہوں نے کبھی بھی کوالٹی یعنی معیا ر پر سمجھوتہ نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ اتنے طویل عرصے میں لوگوں کا اعتماد آج بھی برقرار ہے ا ور آج تک ہمارے کسی مصنوعات یاکسی آیٹم میں کوئی نقص نہیں آیا اور نہ کسی گاہک نے ہمیں کوئی شکایت کی ہے نہ کوئی چیز واپس کی ہے۔ حاجی ظاہر خان کا کہنا ہے کہ اس کاروبار سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال کی یہ مشہور مصنوعات جو گرم کپڑے یعنی چترالی پٹی سے بنتی ہے اس کیلئے پہلے لوگ بھیڑ بکریاں پالتے ہیں ان کا اون کاٹتے ہیں اس اون کو چرحے کے ذیعے کانت کر اس سے دھاگہ بنائی جاتی ہے اس دھاگہ بنانے میں دس ہزار گھرانے مشعول ہوتے ہیں اور ان خواتین کو گھر بیٹھے باعزت روزگارکے طور پر رزق حلا ل ملتی ہے۔ اس دھاگے سے پھر روایتی کھڈیوں کے ذریعے چترالی پٹی یعنی کپڑا بنتی ہے اسے پھر ایک گرم چشمہ کے مقام پر اس مقام پر لے جاتے ہیں جہاں زمین سے قدرتی طور پر گرم پانی چشموں سے نکلتی ہیں اس گرام پانی میں جو ایک حاص درجہ حرارت میں پائی جاتی ہے اس میں اس پٹی کو دھویا جاتا ہے جسے بغیر نچوڑ کئے ہوئے دھوپ میں سکایا جاتا ہے ۔ اس چترالی پٹی کو محتلف رنگ بھی دیا جاتا ہے جس میں اخروٹ کے چھلکے کا رنگ بہت مشہور ہے جو کیمل کلر کا ہوتا ہے اس کے بعد اس پٹی کو بازار لے جاکر درزی حضرات اس سے محتلف چیزیں بناتی ہیں جن میں چترالی ٹوپی، واسکٹ، کوٹ، چوغہ وغیرہ مشہور ہیں 

جاوید حسین بھی یہاں موجود تھا جس نے ایک چوغہ پسند کیا اور اپنے ایک عزیز کو بھی ایک چوغہ تحفے میں دینا چاہتا ہے۔ 

اگر حکومتی ادارے اس صنعت کو فروغ دینے کیلئے ان مرد اور خواتین کاریگروں کے ساتھ مالی یا تیکنیکی مدد کرے ان کیلئے جدید مشنری فراہم کرے او ر ان کے ساتھ مالی مدد بھی کرے تو نہ صرف یہ صنعت پورے ملک میں پھیلے گا اور اس سے بنے ہوئے مصنوعات دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جائیں گے بلکہ اس پسماندہ علاقے سے یہ صنعت غربت کے خاتمے میں بھی کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں