16 نومبر، 2018

پشاور ہائی کورٹ پشاور نے صحافی گل حماد فاروقی کے بیٹے محمد فرحان کے موت میں ذمہ دار ڈاکٹر کے حلاف FIR درج کرنے کا حکم دے دیا۔

پشاور ہائی کورٹ پشاور نے صحافی گل حماد فاروقی کے بیٹے محمد فرحان کے موت میں ذمہ دار ڈاکٹر کے حلاف FIR درج کرنے کا حکم دے دیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے حیات آباد میڈیکل کمپلکس کے سرجیکل اے یونٹ کے انچارج کی درخواست مسترد کرتے ہوئے FIR درج کرنے کا حکم دے دیا۔ اس سے پہلے سیشن جج پشاور نے محمد فرحان کے غلط اور تاحیر سے آپریشن کرنے کے باعث اس کے موت واقع ہونے پر پروفیسر ڈاکٹر خان کے حلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جسے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا مگر پشاور ہائی کورٹ نے ڈاکٹر مظہر خان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سابقہ فیصلہ کو برقرار رکھا اور حسب قانون سابقہ فیصلہ میں حیات آباد پولیس کو ہدایت کی گئی کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان انچارج سرجیکل A یونٹ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے حلاف مقدمہ درج کرے جو قتل باالسبب کے تحت ہوگا۔



پشاور ہائی کورٹ میں گل حماد فاروقی کی جانب سے معروف قانون دان محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹ پیش ہوکر انہوں نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کے بیٹے محمد فرحان کو پہلے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کوہاٹ روڈ پشاور لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے معدے کی زحم قرارد یکر گھر بھیج دیا اس کے بعد اسی ہسپتال میں اسی دن چلڈرن او۔ پی۔ ڈی ۔ میں ڈاکٹر سپین گل کو دکھایا جنہوں نے الٹرا ساؤنڈ کرنے کے بعد اسے گھر بھیج دیا ۔ اس کے بعد اگلے دن اسے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے چلڈرن سرجیکل یونٹ لے گئے جہاں ڈاکٹر نے ایکسرے کرنے کے بعد اسے گھر بھیج دیا اسی رات فرحان کی درد مزید زیادہ ہوا تو اسے رات گیارہ بجے ایک بار پھر لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گئے مگر ڈاکٹر نے اس کا اپریشن نہیں کی اور رات ایک بجے اسے گھر بھیج دیا۔

پانچویں بار اسے حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں صبح کے وقت OPD میں لے گئے مگر ڈاکٹروں نے اس کی بروقت آپریشن نہیں کی اور اس کا اپنڈکس پھٹ گیا مگر ڈاکٹروں کو معلوم ہونے کے باوجود اس کی فوری اپریشن نہیں کی اور شام تک روکے رکھا شام کے بعد چند جونیر ڈاکٹروں نے اس کا غلط آپریشن کیا جس کے بعد اس کی حالت غیر ہوگئی اسے ICU ریفر کیا گیا مگر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں کوئی بیڈ حالی نہیں تھی اسے اگلے روز خیات ٹیچنگ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ایک گھنٹے کے بعداس کا انتقال ہوا۔ 

محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹ کی جانب سے پشاور کے سیشن کورٹ میں 22-A کے تحت کیس دائیر کیا گیا تھا جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ ڈاکٹر صدیق احمد چترالی، پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان، ڈاکٹر نعیم گل افریدی، ڈاکٹر فرح عذیر شاہ، ڈاکٹر حکمت اللہ، ڈاکٹر ناصر حسن، ڈاکٹر عین الہادی، ڈاکٹر شاہد افریدی، ڈاکٹر شہزاد، ڈاکٹر ناصر حسن افریدی، ڈاکٹر نقیب وغیرہ کے حلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعاکی گئی تھی جس پر فاضل عدالت نے 06.12.2016 کو فیصلہ سناتے ہوئے حیات آباد پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ HMC کے سرجیکل اے یونٹ کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان کے حلاف فرحان کے موت میں قتل بالسبب اور مجرمانہ غفلت کے تحت مقدمہ درج کرے مگر حیات آباد پولیس نے ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔ 

تاہم اسے ڈاکٹر مظہر خان نے پشاور ہای کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر ڈویژن بنچ پر مشتمل چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے وکیل کی دلائل سنتے ہوئے اس کی اپیل کو مسترد کی اور سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت متعلقہ پولیس کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ڈاکٹر مظہر خان کے حلاف مقدمہ درج کرے۔ 

واضح رہے اسی کیس میں ایڈیشنل سیشن جج عثمان ولی ٰخان نے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کوہاٹ پشاور کے ڈاکٹر سپین گل اور ڈاکٹر محمد ذہین جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کفایت اللہ خان انچارج چلدڑن سرجیکل یونٹ، ڈاکٹر محمد فیاض، ڈاکٹر جہانگیر، ڈاکٹر اصغر نواز اور ڈاکٹر محتیار زمان میڈیکل ڈایریکٹر کے حلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ فاضل جج نے 18.03.2017 کو ایس ایچ او خان رازق شہید کو حکم دیا تھا کہ وہ ان ڈاکٹروں کے حلاف FIR چاکے مگر ایس ایچ او نے ہسپتال کے عمارت کے حلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ 

پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو صحافی برادری نے نہایت سراہا اور اسے حق اور انصا ف کی جیت قرار دیا۔ اس موقع پر سینیر صحافی گل حماد فاروقی نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا تو کسی قیمت پر واپس نہیں آسکتا مگر ان ڈاکٹروں کے حلاف اگر قانونی کاروائی کی جائے اور ان کو سزا مل جائے تو آئندہ یہ لوگ مریضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی زندگیوں سے نہیں کھیلیں گے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں