اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

26 دسمبر، 2018

بین الاقوامی اہمیت کے حامل کیلاش وادیوں کی سڑکیں تباہ حالی کا شکار، 2015 کے تباہ کن سیلاب کے بعد وادیوں کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں


چترال میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل کیلاش وادیوں کی سڑک موت کا کنواں بنا ہوا ہے۔ 2015 کے تباہ کن سیلاب کے بعد وادی کی سڑکیں بھی تک کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔



چترال(گل حماد فاروقی) اپنی محصوص ثقافت کے حامل دنیا بھر کے سیاحوں اور تحقیق کاروں کا توجہ کا مرکز وادی کیلاش کے مکین گو ناگوں مسائل سے دوچار ہیں۔ وادی کی واحد سڑک نہایت تنگ ہونے کے ساتھ ساتھ دریا کے کنارے گزرتا ہے جبکہ دریا کی جانب سڑک پر کوئی حفاظتی دیوار بھی نہیں ہے اور سڑک کے بیچ میں اتنے کھڈے ہیں کہ صحت مند انسان بھی اس پر سفر کرکے بیمار پڑتا ہے۔
شیخانندہ کے باشندہ شیخ خلیل کا کہنا ہے کہ چار سال قبل جب یہا ں سیلاب آیا تھا تو ہماری ساری سڑکیں تباہ ہوئی تھی ہم کھانے پینے کی چیزیں کندھوں پر اٹھاکر لے جانے پر مجبور تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب برف باری کے باعث شیخانندہ کے سڑ ک پر کھڑی پانی جم کر برف بن چکی ہے جس پر گاڑی پھسل جاتی ہے اور بچے بھی گرجاتے ہیں۔ 

ٹوؤر گائد محمد فاروق کا کہنا ہے کہ وادی کیلاش دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے مگر جب یہاں سیاح ایک مرتبہ آتے ہیں دوبارہ آنے کیلئے سو بار سوچتے ہیں کیونکہ سڑکوں کی حالت نہایت حرا ب ہے اور سڑک کے بیچ میں کھڈوں کی وجہ سے مسافروں کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر کیلئے ماضی میں کئی مرتبہ حکومتی اہلکاروں اور حکمرانوں نے اعلانا ت کئے مگر وہ اعلان صرف زبانی جمع خرچ تھی عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔ 

فیضی کیلاش کڑاکاڑ گاؤں کا نہایت مقبول سماجی کارکن ہے ان کا کہنا ہے کہ جب وادی میں سیاح آتے ہیں تو وہ ہوٹل میں وائی فائی WiFi کا پوچھتے ہیں مگر ان کو کیا معلوم کہ پورے کیلاش وادی میں انٹر نیٹ DSL نہیں ہے جس کی وجہ سے سیاحوں اور صحافیوں کو یہاں سے رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہاں انٹر نیٹ لگ گیا تو اس سے نہ صر ف پی ٹی سی ایل کے محکمے کو فائدہ ہوگا بلکہ یہاں کی معیشت بھی بہتر ہوگی اور سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ 

ظفر علی ایک دکاندار ہے ان کا کہنا ہے کہ اس سڑک کی حالت دیکھ لے جس پر مریض لے جاتے وقت ہسپتال پہنچنے سے پہلے مر جاتا ہے انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ سیاحت کیلئے بہت مشہور ہیں مگر سڑکوں کی حالت نہایت حراب ہے ۔
ایک اور سماجی کارکن نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ جب بھی کوئی اہم شحصیات چترال آتے ہیں تو کیلاش خواتین اور مردوں کے یہاں سے لے جاکر شندور تک پہنچایا جاتا ہے جہاں وہ رقص او ر گانا گاکر ان کو خوش تو کرتے ہیں مگر اس کے بدلے میں کیلاش لوگوں کیلئے حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہاں نہ بجلی ہے نہ سڑک، نہ ہسپتال میں ڈاکٹر ہے نہ ادویات۔ وادی کیلاش کے لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وادی کی سڑکوں کی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ یہاں انٹر نیٹ DSL بھی لگایا جائے تاکہ آنے والے سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگ بھی دنیا سے رابطہ میں رہے اور بیرون دنیا کے حالات بھی انٹر نیٹ کے ذریعے جان سکے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں