1 دسمبر، 2018

بالائی چترال کو اپر چترال کے ضلع کا درجہ دیا گیا۔ عوام میں خوشی کی لہر۔

 

بالائی چترال کو اپر چترال کے ضلع کا درجہ دیا گیا۔ عوام میں خوشی کی لہر۔

چترال (گل حماد فاروقی) خیبر پحتونخواہ کے سب سے بڑے ضلعے چترال کو دو ضلعوں میں تقیسم کیا گیا۔ ضلع اپر چترا ل کے نوٹیفیکیشن جاری ہونے پر پاکستان تحریک انصاف اور بالائی چترال کے عوام میں خوشی کا لہر دوڑ گیا۔ اس سلسلے میں پورے ضلع میں جشن کا سماء ہے چھوٹے بڑے سب اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ 



اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی جنرل سیکرٹری اور سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی اسرا ر الدین صبو ر نے جب نوٹیفیکیشن حاصل کرکے چترا ل آیا جن کے ہمراہ سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان ، سابق تحصیل ناظم مستوج شہزادہ سکندر الملک، سیکرٹری ریٹائریڈ رحمت غازی وغیرہ بھی موجود تھے۔ دروش کے سینکڑوں کارکنوں اور عوام نے گاڑیوں کے بڑے قافلے کی شکل میں عشریت کے مقام پر جاکر ان کا استقبال کیا جہاں ایک محتصر تقریب بھی منعقد ہوئی۔

یہ قافلہ آگے بڑھتا گیا اور دروش کے مین چوک میں ایک بار پھر جلسے کی شکل احتیار کرلی۔اس قافلے پر راستے میں کھڑے ہوئے لوگ پھول اور مٹھایاں نچاور کرتے رہے۔ قافلے میں صوبائی اسمبلی سے محصوص نشست پر مقرر شدہ رکن وزیر زادہ کیلاش بھی قیادت کر رہے تھے۔ خوشی کا پیغام لیکر یہ قافلہ اپنے منزل مقصود کی طرف اپر چترال کے ہیڈ کوارٹرز بونی رواں دواں تھا کہ راستے میں بچوں، بڑوں نے ان کا استقبال کرتے ہوئے ا ن پر پھول برساتے رہے اور مٹھائی تقسیم کرتے رہے۔ بونی میں بہت بڑے جلسے کی اہتمام کی گئی جس سے محتلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہم سیاست سے بالاتر ہوکر پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی اور مرکزی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے بالائی چترال کو الگ ضلعے کا درجہ دیا۔ جلسہ میں رحمت غازی نے صوبائی حکومت کا نوٹیفیکیشن باقاعدہ طور پر دکھایا۔ 

ہمارے نمائند سے باتیں کرتے ہوئے شہزادہ سکندر نے کہا کہ عمران اور سابق وزیر اعلےٰ پرویز خٹک نے اپنا وعدہ پورا کیا اور چترال کے بالائی علاقے کو ضلعے کا درجہ دیا۔ 

رات کو یوتھیوں نے ثقافی شو کا بھی اہتمام کیا جس میں چھوٹے بڑوں نے یکساں طور پر روایتی رقص پیش کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔بالائی چترال کے عوام نے اس فیصلے کو ان کی ترقی کا پہلا زینہ قراردیا کہ اب ان کو معمولی کاموں کیلئے بروغل سے بارہ گھنٹے سفر طے کرکے چترال جانا نہیں پڑے گا بلکہ ان کا کام اب بونی یا مستوج میں پورا ہوگا۔ رحمت غازی نے کہا کہ اس علاقے میں نہایت قیمتی معدنیات ہیں، وافر مقدار میں پانی ہے جس سے پن بجلی گھر بن سکتے ہیں اور اس فیصلے سے نئی نوکریاں ملے گی لوگوں کو روزگار میسر ہوگی اور یہاں سے غربت کا حاتمہ ہوگا۔ 















کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں