اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

10 دسمبر، 2018

چترال کے تاریحی قصبے دروش میں لاکھوں روپے لاگت سے بننے والی واٹر فلٹریشن پلانٹ بری طرح ناکام۔ منتحب کونسلرز کا تحقیقات کرنے کا مطالبہ۔

 

چترال کے تاریحی قصبے دروش میں لاکھوں روپے لاگت سے بننے والی واٹر فلٹریشن پلانٹ بری طرح ناکام۔ منتحب کونسلرز کا تحقیقات کرنے کا مطالبہ۔



چترال(گل حما د فاروقی) چترال کے تاریحی قصبے دروش میں پرانا بازار کے آس پاس مکینوں کو پینے کی صاف پانی فراہم کرنے کیلئے تحصیل میونسپل انتظامیہ TMA نے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا تھا جو بری طرح ناکام ہوا۔ علاقے کا منتحب جنرل کونسلر گل نایاب نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ یہ پلانٹ سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان کے دور میں لگایا گیا تھا مگر یہ بری طرح ناکام ہوا اس علاقے میں پینے کی پانی کی شدید قلعت ہے جبکہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ گندا پانی پینے پر مجبو ر ہیں۔ گل نایاب کے مطابق اس پلانٹ کی دوبار ہ مرمت بھی کی گئی مگر پھر بھی ناکارہ ہے اس پر تقریباً 8ملین روپے کی لاگت آئی ہے جبکہ اس کی حالت یہ ہے کہ ویسے ناکارہ پڑی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم کرے تاکہ اتنی حطیر رقم کس نے ہڑپ کی ہے اس سے واپس لیکر اس پلانٹ کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے۔ 

اس پلانٹ کی عمارت بھی نہایت حراب حالت میں ہے اور دیواروں میں جگہہ جگہہ سوراح بنے ہوئے ہیں جو کسی بھی وقت زمین بوس ہوسکتا ہے۔ جبکہ اس کی نلکیاں بھی ناقص لگائی گئی ہیں جو سب کے سب ٹوٹ چکے ہیں۔

سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان نے ہمارے نمائندے کو فون پر بتایا کہ ان کی دور نظامت میں چترال بھر میں یہ پانچ فلٹریشن پلانٹ تھے جس کے لئے انہوں نے زمین مفت فراہم کی تھی اور شوکت عزیز جب وزیر اعظم تھے تو یہ وفاقی حکومت کی فنڈ سے یہ تعمیر ہوئے تھے تاہم ٹھیکدار نے اس میں بہت بڑے پیمانے پر غبن کیا تھا اسلئے وفاقی حکومت کی جانب سے ان کو ہدایت مل گئی کہ ان منصوبوں کو ٹھیکدار سے Take over نہ کرے یعنی اس کی چارج ٹھیکدار سے نہ لے اور نہ ان کو تکمیل کا سرٹیفیکیٹ دے مگر اس کے باوجود بھی ٹھیکدار کے حلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوئی انہوں نے مزید بتایا کہ اب TMA کو چاہئے کہ اس پر تھوڑا بہت خرچہ کرکے ان کو قابل استعمال بنائے یہ دروش، جغور، مستوج، چترال اور بونی میں لگائے گئے تھے جو اب سب کے سب ناکارہ پڑے ہیں۔ 

اس سلسلے میں تحصیل میونسپل انتظامیہ کی موقف جاننے کیلئے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر متعلقہ افسر موجود نہیں تھے جبکہ اس عمارت کی ناقص تعمیر کے سلسلے میں محکمہ مواصلات یعنی سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسیئن کی موقف جاننے کیلئے ا ن کے دفتر گئے مگر معلوم ہوا XEN زیادہ تر پشاور میں ہوتا ہے پچھلے ہفتے ایک دن کیلئے آئے تھے اس کے بعد پھر پشاور چلے گئے۔

عوام انصاف کے دعویدار حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نہ صرف دروش بلکہ چترال بھر میں جتنے بھی واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کئے گئے تھے جو سب کے سب ناکام ہوکر بے کار پڑے ہیں اسکی مشنری بھی حراب ہورہی ہے اس سلسلے میں انکوائیری کرے تاکہ جن لوگوں نے سرکار کا پیسہ بے دردی سے ہڑپ کیا ہے ان سے واپس لیا جائے اور ان پلانٹ ز کو دوبارہ استعمال کا قابل بنایا جاسکے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں