3 دسمبر، 2018

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے چترال میں دانشورانہ حقوق کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی ورکشاپ کا اہتمام۔ آگاہی پروگرام میں سوال و جواب کا نشست بھی ہوا۔


آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے چترال میں دانشورانہ حقوق کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی ورکشاپ کا اہتمام۔ آگاہی پروگرام میں سوال و جواب کا نشست بھی ہوا۔



چترال (گل حماد فاروقی) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ماہرین کی جانب سے چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں دانشورانہ حقوق Intellectual Property Rights کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی نشست کا اہتمام ہوا جس میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ماہرین نے اپنے کتابوں کے بہترین معیار پر مفصل بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پریس اعلے ٰ معیار کی کتب چھاپ رہے ہیں مگر بعض نا عاقبت اندیش لوگ ان کی نقل کر رہے ہیں اور جعل سازی سے ان کے طرز پر کتابیں چھاپتے ہیں جو غلط ہے۔ انہوں نے جعل سازی کے مطابق آگاہ کیا کہ جعل سازی کے ذریعے ایک رجسٹرڈ فرم کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔ 

ماہرین نے کہا کہ جعلی پریس میں چاپ شدہ کتابیں صحت پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ دانشورانہ حقوق پر فیاض راجہ ڈائیریکٹرآکسفورڈ یونیورسٹی پریس، اسسٹنٹ کمشنر عالمگیر خان، ملک بلال حیدر منیجر اور دیگر نے اظہار حیال کیا۔ مقامی صحافی (گل حماد فاروقی) نے سوال کیا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کتب بہت مہنگی ہیں انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی انگلش ٹو انگلش ڈکشنری ہزاروں روپے میں بکتی ہے جبکہ وہی ڈکشنری پڑوسی ملک ہندوستا ن میں نصف قیمت پر ملتی ہے ایران ایک چھوتائی نرح پر بیچتا ہے جبکہ بیروت اور دیگر ممالک سے بھی بہت سستی ملتی ہے ۔ اسی طرح آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پریس کی کتابیں ایک کلاس کی دو ہزار روپے میں ملتی ہے جبکہ آفاق اور دیگر پبلشروں کی کتابیں ایک ہزار میں ملتی ہے کم از کم سکول کی سطح پر ان کتابوں کی قیمت تو کم رکھنا چاہئے تھا تاکہ غریب بچے بھی اس سے استفادہ حاصل کرسکے 

جس پر ماہرین نے جواب دیا کہ چونکہ ہندوستان میں ڈالر کی قیمت بہت کم ہے اور پاکستان میں زیادہ اسلئے وہا ں سستی ہے اور پاکستان میں مہنگی ہے۔ 

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے سوال پوچھا کہ بازار میں جب کتب فروش کے دکان پر نقل شدہ کتابیں برآمد ہوتی ہے تو صرف اسے سزا ہوتی ہے جبکہ مڈ ل مین کو کوئی سزا نہیں ہوتا کہ کتاب کہاں سے ملا ہے اور کس نے چاپا ہے۔ 

نابیگ کیلاش ایڈوکیٹ نے کہا کہ ان کی فیملی اور بچوں کا ذاتی تصویر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے سکول کی کتاب میں چھپ چکا ہے جس کا اس سے اجازت نہیں لی گئی ہے اور یہ میرا کاپی رایٹ ہے۔ اس دانشورانہ حقوق سے متعلق آگاہی پروگرام میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی کتابوں کی فہرست پر مبنی کتب بھی لوگو ں میں تقسیم کیے۔ 








کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں