4 دسمبر، 2018

چترال میں خصوصی افراد کا عالمی دن منایا گیا۔ معزور افراد کیلئے کمپلکس کی تعمیر کا مطالبہ۔

 

چترال میں خصوصی افراد کا عالمی دن منایا گیا۔ معزور افراد کیلئے کمپلکس کی تعمیر کا مطالبہ۔ 



چترال (گل حماد فاروقی) ملک کے دیگر حصوں کی طرح چترال میں بھی حصوصی افراد کا عالمی دن منایا گیا۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں ایک تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں ڈپٹی کمشنر چترال 

خورشید عالم محسود مہمان حصوصی تھی جبکہ تقریب کی صدارت ضلع ناظم مغفرت شاہ کر رہے تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی خطیب مولانا فضل مولا نے کہا کہ اسلام میں معزورافراد کے ساتھ حصوصی مہربانی او ر نرم برتاؤ کی تاکید کی گئی ہے انہوں نے حلفائے راشدین کا مثال دیتے ہوئے کہ امیر المؤ منین ایسے معزور افرا د کی خود خدمت کیا کرتے تھے۔ 

ڈسٹرکٹ سوشیل ویلفئیر آفیسر مسز نصرت جبین نے کہا کہ وہ ایسے معذور افراد کا ڈیٹا اکٹھا کررہی ہے اور اب تک تین ہزار معزوروں کا بایو ڈیٹا اکٹھا ہوچکا ہے جن کی باقاعدہ رجسٹریشن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے محکمے میں ان معذور لوگوں کیلئے کوئی فنڈ نہیں دیا گیا ہے ۔

معزور افراد کے لئے کام کرنے والے ایک غیر سرکار ی تنظیم کے صدر ثناء اللہ نے کہا کہ معزوروں کے چار اقسام ہیں مگر بدقسمتی سے چترال میں صرف ایک ہی سکول ہے جس میں ان سب نوعیت کے معزوروں کو پڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود بھی ایک معذور شحص ہوں جب ہم کسی دفتر میں افسر کے پاس جاتے ہیں تو وہاں ہمارا ویل چئیر نہیں جاسکتی اور اکثر دفاتر دوسرے منزل پر ہونے کی وجہ سے وہ وہاں چڑھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے گاڑی والے ان کے ویل چئیر کے بھی کرایہ مانگتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کہ چترال میں پانچ ہزار معزور لوگوں کیلئے ایک کمپلکس تعمیر کیا جائے جہاں وہ نہ صرف ہنر یا کوئی فن سیکھے بلکہ ان کیلئے کھیل کود بھی سامان ہو اور وہ بھی صحت مند لوگوں کی طرح زندگی کے مزے لے سکے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وہ تمام محکموں کے سربراہان کو ایک خط جاری کریں گے کہ جب بھی ان کے دفتر میں کوئی معزور شحص آئے تو و ہ خود اپنی کرسی سے اٹھ کر ان کے پاس آئے جہاں ان کی ویل چئیر نہیں جاسکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمتوں میں ان کی دو فی صد کوٹہ یقینی بنایا جائے اور ان کو ان محصوص نشستوں پر ملازمت دلوائی جائے۔ 

ضلع ناظم نے اعلان کیا کہ وہ ان کیلئے ایک ٹورنمنٹ کا بھی انتظام کرے گا اور اس کیلئے پانچ لاکھ روپے کا فنڈ بھی دے گا۔ 

دروش کالدام سے آنے والے وقار احمد نے بتایا کہ دروش اور دیگر علاقوں میں معزوروں کیلئے کوئی سکول بھی نہیں ہے صرف چترال ٹاؤن میں ایک سکول ہے جو ناکافی ہے ہر علاقے میں ان حصوصی افراد کیلئے ایک سکول کا بندوبست کیا جائے۔ 

فضل نادر اور شفیق افضل بھی دونوں پیدائیشی طور پر معزور ہیں جو اس پروگرام میں شرکت کیلئے آئے تھے انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تقریب اپنی مدد آپ کے تحت منعقد کیا ہے اس کیلئے ہمارے ساتھ کسی نے مدد نہیں کیا ہے اعلانات تو سب بڑے بڑے کرتے ہیں مگر عملی طور پر ہم معزوروں کیلئے کوئی بھی کچھ نہیں کرتا۔

حصوصی افراد میں بہترین کارکردگی کے حامل کو انعامات بھی دئے گئے۔ آحر میں حصوصی افراد کا عالمی دن منانے کے نسبت سے کیک بھی کاٹاگیا۔ اس تقریب میں کثیر تعداد میں معزور لوگوں نے شرکت کی جو اپنے وسائل پر دور دراز علاقو ں سے یہاں آئے تھے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں