اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

14 دسمبر، 2018

چترال کے بالائی علاقے ریری اوویر میں پانی کی شدید قلعت۔ کھڑی فصلیں تلف، پھلدار باغات خشک لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور۔ سکول کے نھنے پھولوں کا انوکھا احتجاج۔

 




چترال کے بالائی علاقے ریری اوویر میں پانی کی شدید قلعت۔ کھڑی فصلیں تلف، پھلدار باغات خشک لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور۔ سکول کے نھنے پھولوں کا انوکھا احتجاج۔

چترال(گل حماد فاروقی) چترا ل کے بالائی علاقے ریری اویر میں پانی کی شدید قلعت ہے جس کی وجہ سے کھڑی فصلیں اور پھلدار درختوں کے باغات خشک ہورہے ہیں۔ پانی کی عدم دستیابی سے لوگوں کی روزگار اور معیشت پر بھی برے اثرات پڑتے ہیں اس علاقے میں ار د گرد پہاڑوں پر برف باری ہوئی ہے اور زمین پر بھی بر ف کا سفید چادر اوڑھا ہوا ہے شدید سردی کے باوجود سکول کے چھوٹے بچوں نے اپنے جائز حق کیلئے شدید سردی کے باوجود پر امن مظاہرہ کیا۔ سکول کے بچوں نے پلے کارڈز اور بینرز ہاتھ میں اٹھا رکھے تھے جس پر نعرے درج تھے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان کی پانی کا مسئلہ حل کرے۔

سکول کے بچوں نے کہا کہ ہمارے والدین کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہے وہ کھیتی باڑی کرکے اور پھلوں کو خشک کرکے ان کو بیچتے تھے جس سے ہمارے تعلیمی اخراجات پورے کرتے مگر اب کئی سالوں سے پانی کے چشمے خشک ہوچکے ہیں تو ہمارے والدین کا ذریعہ معاش بھی بر ی طرح متاثر ہوا ہے اور ہمارے تعلیمی اخراجات پورے نہیں کرسکتے۔ہم چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محکمہ آبپاشی کے ذریعے ہمارے لئے پانی کا بندوبست کرے۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے علاقے کے چند معززین نے بتایا کہ جب چیف جسٹس صاحب چترال کے دورے پر آئے تھے تو ہم نے ان کو بھی درخواست پیش کی تھی جس پر انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ متعلقہ حکام کو ہدایت دیکر پانی کا مسئلہ حل کرائے گا مگر اب معلوم ہوا ہے کہ محکمہ آبپاشی اس میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ 

علاقے کے سماجی کارکنان سدار ولی شاہ، جہان خان، شیر اللہ، شہریار، سراج الرحمن، حافظ الرحمان ، حمایت اللہ وغیرہ نے بتایا کہ پہلے یہاں پانی کے چشمے تھے مگر اب وہ خشک ہوچکے ہیں اور پانی نیچے سے گزرتی ہے جبکہ یہاں دریا بھی بہتا ہے اور چند فاصلے پر پانی کے ذحائیر بھی موجود ہیں حکومت چاہے تو ان ذحائر سے بھی پائپ لائن کے ذریعے بھی پانی لایاجاسکتا ہے اور دریا سے شمسی توانائی یا بجلی کے موٹر کے ذریعے بھی پانی چڑھا کر ٹینکی میں جمع کیا جاسکتا ہے جہاں سے پائپ کے ذریعے پانی لاکر ہم اپنے زمینوں اور پھلدار درختوں کے باغات سیراب کرسکتے ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تین ہزار لوگ رہتے ہیں جن کی چالیس ہزار ایکڑ زمین پانی کی قلعت کی وجہ سے بنجر ہورہا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے سے 85 گھرانوں نے نقل مکانی بھی کی ہے انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صورت حال یہی رہی تو وہ بھی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔ 

متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور صوبائی وزیر اعلےٰ محمود خان سے اپیل کی ہے کہ ان کی پانی کا مسئلہ جلد از جلد حل کرائے تاکہ ان کی ذرحیز زمین بنجر ہونے بچ جائے اور یہ لوگ فاقہ کشی کے شکار نہ ہو۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں