27 دسمبر، 2018

چیف سیکرٹری خیبرپحتونخواہ، اور سیکرٹری ہیلتھ کا چترال کے محتلف ہسپتالوں کا معائنہ۔ چترال کے تین سرکار ی ہسپتال جو ایک غیر سرکاری ادارے کو دئے گئے تھے ان کی میعاد میں مزید پانچ سال کا اضافہ کیا گیا۔

 

چیف سیکرٹری خیبرپحتونخواہ، اور سیکرٹری ہیلتھ کا چترال کے محتلف ہسپتالوں کا معائنہ۔ چترال کے تین سرکار ی ہسپتال جو ایک غیر سرکاری ادارے کو دئے گئے تھے ان کی میعاد میں مزید پانچ سال کا اضافہ کیا گیا۔ 



چترال(گل حماد فاروقی) چیف سیکرٹری خیبر پحتون خواہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، صوبائی سیکرٹری محکمہ صحت، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے چترال کے بالائی علاقوں میں ہسپتالوں کا معائنہ کیا ان کی دورے کی بنیادی مقصد چترال میں تین سرکاری ہسپتا ل جو آغاخان ہیلتھ سروس کو دئے گئے ہیں ان کی میعاد میں مزید پانچ سال کی اضافے کے معاہدے پر دستحط کرنا تھا۔ 

سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر سید فاروق جمیل نے بعد میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کا بھی معائنہ کیا ۔ ان کے دورے کے موقع پر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رحمت آفریدی نے ان کو بریفنگ دی اور محتلف وارڈز اور سیکشن کا معائنہ کروایا۔ ڈاکٹر رحمت نے بتایا کہ DHQ ہسپتال میں 21 سپیشلسٹ ڈاکٹرز اور 40 کے قریب میڈیکل آفیسرز اور دیگر آسامیاں حالی ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر دو سال قبل ریٹائر ہوئے ہے مگر ابھی تک اس کی جگہہ کوئی ڈاکٹر نہیں آیا اس کے علاوہ پورے چترال میں آرتھوپیڈک سرجن، کارڈیالوجسٹ ، سائکاٹرسٹ اور دیگر سپیشلسٹ ڈاکٹر نہیں ہے اور ان مریضوں کو پشاور ریفر کیا جاتا ہے جس پر بہت لاگت آنے کے ساتھ ساتھ راستے کی تکلیف بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ 

سیکرٹری ہیلتھ نے جنگ بازار میں زنانہ اور بچوں کے ہسپتال بھی معائنہ کیا اس موقع پر ان کو بریفنگ دی گئی کہ ہسپتالوں میں جدید مشنریوں کی کمی ہے اگر یہاں سامان ، مشنری وغیرہ مکمل ہوجائے تو اس سے مریضوں کو کافی سہولت ہوگی۔

سیکرٹری ہیلتھ نے ہمارے نمائندے سے حصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد ایسے دور دراز علاقوں میں واقع ہسپتالوں کا معائنہ کرنا تھا جہاں عام طور پر اعلےٰ عہدوں پر تعین افسران نہیں آتے تاکہ ان کا حالات دیکھ کر عوام کی مسائل حل کیا جاسکے۔

سیکرٹری ہیلتھ نے کہا کہ چترال کے اکثر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی آسامیاں حالی ہیں بلکہ بعض ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں ہے مگر ہماری کوشش ہوگی کہ ان ہسپتالوں میں ڈاکٹر جلد سے جلد بھیج دے۔ 

ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ پورے دنیا میں پبلک پراؤیٹ پریکٹس ہورہی ہے ۔ ہمار ی بھی کوشش ہے کہ ان ہسپتالوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیں تاکہ مریضوں کو بہتر سہولیات میسر ہوسکے۔ 

بعد میں انہوں نے شاہی قلعہ کا بھی دورہ کیا جہاں چترال کے روایات کے مطابق تمام مہمانوں کو چترالی چوغہ اور ٹوپی پیش کئے گئے


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں