19 دسمبر، 2018

کیلاش کا چانجہ تہوار، چھومس کے دوران مختلف رسومات ادا کئے جاتے ہیں: چانجہ رسم میں مرد اور خواتین الگ الگ راستوں سے رات میں مشعل بردار جلوس کی صورت میں نکلتے ہیں


کیلاش قبیلے کے لوگوں نے چانجہ تہوار منایا، چھومس کے 
دوران کیلاش قبیلے کے محتلف رسومات ادا کرتے ہیں۔ چانجہ رسم میں مرد اور خواتین الگ راستوں سے گزرتے ہوئے مشعل بردار جلوس رات کو نکالتے ہیں۔ 



چترال (گل حماد فاروقی) کیلاش قبیلے کے لوگ تینوں وادیوں میں اپنا سالانہ مذہبی تہوار چھترمس منارہے ہیں جس میں محتلف مذہبی رسومات ہوتے ہیں۔ ان رسومات میں سب سے دلچسپ رسم چانجہ تہوار ہے جس میں کیلاش لوگ ہاتھ میں چلغوزے کا لکڑی پکڑ کر اسے آگ جلاتے ہیں اور یہ مشعل بردار جلوس رات کے وقت گاتے ہوئے اور رقص کرتے ہوئے ایک راستے سے گزرتے ہیں جبکہ خواتین بھی مشعل بردار جلوس نکالتی ہے مگر ان کاراستہ الگ ہوتا ہے۔

یہ لوگ رات کے اندھیرے میں ان مشعل کے روشنی میں گاتے ہوئے اور رقص کرتے ہوئے ایک حاص جگہہ میں اکٹھے ہوتے ہیں اور وہاں سے اکھٹے جلوس کی شکل میں ان کی رقص گاہ جاتے ہیں جسے مقامی زبا ن میں چرسو کہتے ہیں۔ 

یہ مشعل بردار جلوس ای چرسو میں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں بہت زیادہ لکڑی جمع کرکے ان کو آگ لگاتے ہیں یہ لوگ اپنے اپنے ہاتھوں میں جلتے ہوئے لکڑی کے تکڑے بھی اسی آگ میں ڈالتے ہیں اور اس کے ارد گرد رقص کرتی ہیں اس رقص میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں ۔ 

اس تہوار کے دوران کیلاش قبیلے کے لوگ اپنے مذہبی مقام مالوش میں مال مویشی لے جاکر خود ذبح کرتے ہیں مگر اس گوشت کا عورتوں کو کھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جس دن یہ لوگ جانور ذبح کرتے ہیں اسی دن جن خواتین کے ہاں زچگی ہوئی ہوتی ہے ان کو پاک کرنے کیلئے دو نابالغ لڑکے جسٹکان میں جاکر صنوبر کے ٹہنوں کو آگ لگاتے ہیں اور اس جلے ہوئے ٹہنوں کو ان خواتین کے سروں کے اوپر سے پھراتے ہیں جس سے وہ پاک ہوتے ہیں جبکہ مرد حضرات کو پاک کرنے کیلئے ان قربانی کے بکروں کا خون ا ن کے اوپر چڑھکاتے ہیں جس سے وہ پاک ہوکر اس محفل میں جاسکتے ہیں جہاں یہ لوگ رقص کرکے گیت گاتے ہوئے مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ 

اس موقع پر کیلاش قبیلے سے اقلیتی نشست پر حصوصی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کیلاش نے کہا کہ یہ اہم تہوار ہے جس میں ہم قربانی کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں اس تہوار کے بارے میں دنیا کو اتنا معلوم نہیں ہے کیونکہ سردی کی وجہ سے باہر سے کم لوگ آتے ہیں انہوں نے کیلاش اور مسلم کمیونٹی کو بھی مبارک باد دی جو ان کے ہر خوشی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ سرکاری کا مذمت کیا کہ انہوں نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں اسلئے ڈالا تھا کہ یہاں اقلیتوں کو مذہبی آزادی نہیں ہے تو اس کے حلاف میں نے اسمبلی میں قرارداد پیش کی اور انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے

جرمنی سے آئے ہوئے ایک سیاح نے کہا کہ یہاں آکر ان کو بڑی خوشی ہوئی کیونکہ کیلاش لوگ نہایت محصوص رسم ادا کرتے ہیں اور میں پچھلے پندرہ سالوں سے کیلاش آتا رہتا ہوں اور یہ لوگ نہایت مہمان نواز اور پر امن ہے اور جب میں کسی کے گھر کے قریب سے گزرتاہوں وہ لوگ ضرور مجھے چائے کا دعوت دیتے ہیں 

رضیہ کیلاش نے کہا ہماری دہری خوشی ہیں ایک تو ہمارا تہوار ہے دوسرا ہمارا کیلاش قبیلے کا ایک شحص صوبائی اسمبلی کا رکن بن گیا ہم قربانی بھی کرتے ہیں اور دیک دوسرے کو تحفے میں بھی دیتے ہیں اس تہوار کے دوران لڑکیاں اکثر اپنے دوست کے ساتھ بھاگ کر شادی کرتی ہیں ۔

اس تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں لوگ آئے تھے۔ تاہم سیکورٹی فورسز کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ نو ابجکشن سرٹیفیکیٹ ہونے کے باوجود سختی کی جاتی تھی ، ویڈیوں بننے نہیں دیتے اور ان کو حکم دیا جاتا کہ وہ الیون کور سے بھی NOC لائے بعد میں پاک فوج کے میجر سے فون پر بات کرکے اس مسئلے کو حل کرایا گیا۔






کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں