اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

31 دسمبر، 2018

سیاحوں کی وادی، کیلاش کے رمبور اور بمبوریت میں انتظار گاہ اور بیت الخلا بنانے کا مطالبہ، سیاحوں کے لئے بنیادی ضروریات میسر نہیں

 

چترال : دنیا بھر کے سیاحوں کے توجہ کا مرکز وادی کیلاش کے رمبور اور بمبوریت کے سنگھم پر انتظار گاہ اور بیت الحلاء بنانے کا مطالبہ۔ سیاحوں کو بیٹھنے اور بشری ضروریات پورا کرنے کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔



چترال (گل حماد فاروقی) دنیا بھر میں اپنی محصوص ثقافت، لباس، نرالے تہوار، پر اسرار دستور اور عجیب و غریب رسموں کی وجہ سے مشہوار وادی کیلاش میں آنے والے سیاح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ چترال میں کیلاش قبیلے کے لوگ تین وادیوں میں رہتے ہیں وادی بمبوریت، بریر اور رمبور ۔ مگر تینوں وادیوں کی سڑکیں موت کے کنویں کے مترادف ہیں۔ 

تاہم وادی بمبوریت اور وادی رمبور کو جانے والی ایک ہی سڑک دوباش کے مقام پر الگ ہوتے ہیں جہاں دائیں طرف والی سڑک رمبور جاتی ہے اور بائیں طرف بمبوریت کو جاتی ہے۔ اسی جگہہ چترال لیویز کا ایک پوسٹ بھی ہے جہاں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں سے ٹیکس بھی لیا جاتا ہے جسے کیلاش ویلفئیر فنڈ کا نام دیا گیا ہے مگر آج تک کیلاش کیلئے ویلفئیر کا کوئی حاص کام نظر نہیں آیا۔ 

اسی مقام پر مسافروں کی تلاشی اور ضروری چیکنگ اور اپنا شناحت کروانے میں تھوڑی دیر رکنا پڑتا ہے۔ یہاں دریا پر ایک پل بنایا گیا ہے اس مقام پر تین بار پل بنایا گیا ہے جو تین بار ناقص میٹیریل کی وجہ سے تباہ ہوا مگر بنانے والے سے آج تک کسی نے نہیں پوچھا اب لکڑیوں کا ایک جیپ ایبل پل تقریباً 70 لاکھ روپے کی لاگت سے بنی ہے۔ مگر پُل اس طرح بنا ہے کہ اس سے گزرنے والی گاڑی پل کے کناروں سے ٹکراکر حراب ہوتی ہے۔ اور کئی بار گاڑیوں کو پیچھے جانا پڑتا ہے۔ 
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ایک سیاح خالد اعظم نے کہا کہ کیلاش بین الاقوامی اہمیت کا جگہہ ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں مگر دوبا ش چیک پوسٹ کے مقام پر نہ تو ان سیاحوں اور مسافروں کیلئے کوئی انتظار گاہ ہے نہ کوئی واش روم انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دوباش کے مقام پر ایک انتظار گاہ اور دو عدد باتھ روم بنایا جائے تاکہ یہاں آنے والے مسافر بارش یا برف باری کی صورت میں انتظار میں بیٹھ کر خود کو گیلا ہونے سے بچائے اور بشری تقاضے پورا کرنے کیلئے دو عدد باتھ روم بھی بنایا جائے تاکہ ان سیاح جن میں خواتین بھی شامل ہوتی ہیں ان کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

واضح رہے کہ دوباش کے مقام پر رمبور سڑک کے کنارے کافی جگہہ موجود ہے جہاں انتظار گاہ بھی بن سکتی ہے اور واش رو م ز بھی بھی سکتے ہیں۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں